السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 458
عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا طَافَ لِلْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ ، أَوَّلُ مَا يَقْدَمُ يَسْعَى ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ بِالْبَيْتِ وَيَمْشِي أَرْبَعَةً ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ " .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو پہلے تین چکر دوڑ کر لگاتے اور آخری چار عام چال چل کر پھر دو رکعت اداء فرماتے پھر صفا مروہ کا طواف فرماتے۔
وضاحت:
➊ طواف کعبہ حج و عمرہ کا اہم ترین رکن ہے۔
➋ رمل کی ابتدا سے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ آئے تو مشرکین مکہ نے کہا: تمہارے پاس ایسے افراد آئے ہیں جن کو یثرب (مدینہ منورہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل (تیز چلنا جس سے اظہار قوت ہو) کا حکم دیا۔
➌ رمل کی علت اگر چہ ختم ہو چکی ہے حکم اب بھی باقی ہے اور یہ عمل دوران طواف کرنا مسنون ہے۔
➋ رمل کی ابتدا سے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ آئے تو مشرکین مکہ نے کہا: تمہارے پاس ایسے افراد آئے ہیں جن کو یثرب (مدینہ منورہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل (تیز چلنا جس سے اظہار قوت ہو) کا حکم دیا۔
➌ رمل کی علت اگر چہ ختم ہو چکی ہے حکم اب بھی باقی ہے اور یہ عمل دوران طواف کرنا مسنون ہے۔