حدیث نمبر: 457
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لا نَرَى إِلا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَحِلَّ " ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقِيلَ : ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ . قَالَ يَحْيَى : فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَقَالَ : أَتَتْ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَحَدِيثُ طَاوُسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عَمْرَةَ , وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّفِقَةٌ كُلُّهَا ؛ لأَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا خَرَجُوا مُهِلِّينَ يَنْوُونَ الإِحْرَامَ وَيَنْتَظِرُونَ مَا يَقْضِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَصِيرِ إِحْرَامِهِمْ أَيَجْعَلُونَهُ حَجًّا وَهُوَ الَّذِي يَعْرِفُونَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ لا يَعْرِفُونَ فِي شُهُورِ الْحَجِّ عُمْرَةً أَمْ يَجْعَلُونَهُ عُمْرَةً ؟ أَوْ جَمْعًا بَيْنَهُمَا ؟ فَلَمَّا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَضَاءُ أَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَذَلِكَ قَبْلَ طَوَافِهِمْ فَأَحْدَثُوا نِيَّةً بَعْدَ النِّيَّةِ الأُولَى عَرَفُوا بِهَا الْفَرْقَ بَيْنَ إِحْرَامِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ صَارَ حَاجًّا مُفْرِدًا وَأُولَئِكَ أَهْلُ الْهَدْيِ الَّذِينَ سَاقُوهُ وَمِنْهُمْ مَنْ صَارَ مُتَمَتِّعًا وَأُولَئِكَ الَّذِينَ لا هَدْيَ مَعَهُمْ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : وَفِي هَذِهِ الأَحَادِيثَ بَيَانُ مَا وَصَفْتُ وَأَرْبَعَةٌ أَوْلَى أَنْ يَكُونُوا أَحْفَظَ مِنْ وَاحِدٍ وَإِنَّمَا غَلِطَ مَنْ رَوَى حَدِيثَ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ مِنْ قِبَلِ وَجْهٍ قَدْ يُغْلَطُ مِنْ مِثْلِهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ : أُمِرْتُ أَنْ أَسْكُتَ عَنْ عُمْرَتِي وَاعْتَمَرْتُ مَكَانَ عُمْرَتِي فَكَانَ طَوَافِي يُجْزِينِي لِحَجِّي وَعُمْرَتِي فَسَمِعَ ذَلِكَ سَامِعٌ لَعَلَّهُ أَنْ لا يَكُونَ حَفِظَ أَوَّلَ الْحَدِيثِ فَيَكُونَ عِنْدَهُ أَنْ لا تَكُونَ مُعْتَمِرَةً إِلا وَقَدِ ابْتَدَأَتِ الإِحْرَامَ بِعُمْرَةٍ فَيَرْوِيَ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ وَإِنَّمَا صَارَ إِحْرَامُهَا عُمْرَةً بَعْدَ أَنْ عَقَدَتْهُ كَمَا عَقَدَ النَّاسُ تَنْتَظِرُ الْقَضَاءَ كَمَا يَنْتَظِرُونَهُ وَأُمِرَتْ أَنْ تَجْعَلَ إِحْرَامَهَا عُمْرَةً فِي جُمْلَةِ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذْ لَمْ يَكُنْ مَعَهَا هَدْيٌ فَهَذَا هُوَ الْمَوْضِعُ الَّذِي أُتِيَ مِنْهُ مَنْ رَوَى حَدِيثَ عُرْوَةَ وَلِوُجُودِ الْخِلافِ لِلْقَاسِمِ وَعَمْرَةَ فِي الْحَدِيثِ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ اثْنَانِ أَشْبَهَ أَنْ يَكُونَا أَحْفَظَ مِنْ وَاحِدٍ وَلَوِ اشْتَبَهَا كَانَ جَائِزًا ؛ إِذْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا رَوَى الْقَاسِمُ وَعَمْرَةُ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُثْبِتُ لَهُمَا مَوْضِعَ الْحِفْظِ وَكَذَلِكَ طَاوُسٌ ؛ إِذْ رَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْلا الاسْتِدْلالُ بِمَا وَصَفْتُ وَمَا أَشْبَهَهُ مَا خَلُصْنَا بَيْنَ الْخَطَأِ وَالصَّوَابِ فِي الْحَدِيثِ . قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : مَا مَعْنَى الْحَدِيثِ الَّذِي يُرْوَى عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ؟ قُلْنَا : نُثْبِتُهُ إِنَّمَا نَدَعُ تَثْبِيتَ مَا خَالَفَهُ فِيهِ غَيْرُهُ مِمَّنْ هُوَ أَكْثَرُ مِنْهُ عَدَدًا فَأَمَّا مَا لَمْ يَكُنْ يُخَالِفُهُ فِيهِ أَحَدٌ فَهُوَ لَفْظٌ غَيْرُ اللَّفْظِ الَّذِي خُولِفَ فِيهِ وَأَمْرٌ غَيْرُ الأَمْرِ الَّذِي خُولِفَ فيهِ فَنُثْبِتُهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ مُخَالِفٌ .
نوید مجید طیب

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے ہم حج ہی کے لیے نکلے تھے تو جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا جس کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں وہ طواف کے بعد حلال ہو جائے تو ہمارے پاس یوم النحر کو گائے کا گوشت آیا میں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کی جانب سے گائے ذبح کی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حدیث جابر رضی اللہ عنہ اور حدیث طاؤس رحمہ اللہ اور حدیث یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ، جو عمرہ رحمہ اللہ اور قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے بیان کیا ساری اسناد متفق ہیں کہ اصحاب رسول ﷺ تلبیہ کہتے ہوئے نکلے احرام کی نیت سے اس انتظار میں تھے کہ اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ ﷺ کی زبانی کیا فیصلہ آتا ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں حج کے مہینوں میں حج ہی کا احرام باندھنا معروف تھا، اُن کے ہاں حج کے ماہ میں عمرہ کا احرام یا حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھنا معروف نہ تھا، جب رسول اللہ ﷺ پر فیصلہ نازل ہوا تو حکم صادر کیا کہ جس کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں وہ عمرہ کرے یہ حکم طواف کرنے سے پہلے ہی دے دیا تو انہوں نے پہلی حج والی نیت کو عمرہ کی نیت سے بدلا، احرام میں فرق کا بھی پتہ چلا، بعض نے مفرد حج کیا یہ وہ تھے جو قربانیاں ہمراہ لائے تھے، اور بعض نے حج تمتع کیا یہ وہ تھے جو قربانیاں ہمراہ نہ لائے تھے۔ ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مذکورہ توجیہ ہی مذکورہ احادیث سے پتہ چلتی ہے چار روات الحدیث زیادہ یاد رکھنے والے ہیں ایک راوی کے مقابلے میں، جس نے حدیث عروہ روایت کی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مدینہ سے نکلتے وقت ہی عمرے کا ارادہ رکھتی تھی۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 457
تخریج حدیث انظر ما قبلہ، برقم: 457۔