السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لا نَرَى إِلا الْحَجَّ ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفٍ أَوْ قَرِيبٍ مِنْهَا " أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً " ، فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا : ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ . قَالَ يَحْيَى : فَحَدَّثْتُ بِهِ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ : جَاءَتْ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ .ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ماہ ذی قعدہ ختم ہونے کو پانچ دن باقی تھے ہم صرف حج کا ارادہ رکھتے تھے تو جب ہم مقام سرف کے قرب و جوار میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: ”جس کے پاس جانور نہیں وہ عمرہ کرلے (یعنی حج تمتع کرے)“ ہم جب منی میں تھے تو مجھے گائے کا گوشت دیا گیا میں نے پوچھا: یہ کہاں سے آیا؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ازواج کی جانب سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ رحمہ اللہ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد رحمہ اللہ کو بتائی تو کہنے لگے بخدا بالکل درست حدیث آپ تک پہنچی ہے۔