السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لا نَرَى إِلا أَنَّهُ الْحَجُّ ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : فَدَخَلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا : نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ بَقَرَةً . قَالَ يَحْيَى : فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ : أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ .ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم پچیس ذی قعدہ کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مدینہ سے مکہ کے لیے) روانہ ہوئے ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: ”جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں وہ بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کر کے احرام کھول دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں یوم نحر کو ہمارے پاس گائے کا گوشت آیا میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔ یحییٰ رحمہ اللہ راوی حدیث کہتے ہیں میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد رحمہ اللہ کو بتائی تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم بالکل درست حدیث آپ تک پہنچی ہے۔