السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " ، قَالَتْ : وَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " انْقُضِي رَأْسَكَ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ " ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ ، قَالَ : " هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكَ " ، قَالَتْ : فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ حَلُّوا ، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ ، وَأَمَّا الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا .ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حجۃ الوداع کے موقع پر سفر کے لیے نکلے عمرہ کا احرام باندھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس کے ہمراہ قربانی کا جانور ہے، تو وہ حج قران کا احرام باندھے پھر دونوں عمرہ و حج کے بعد ہی احرام کھولے“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں مکہ میں حیض کی حالت میں پہنچی تو میں نے نہ طواف کیا نہ ہی صفا مروہ کی سعی کی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”اپنا سر کھولو کنگھی کرو اور حج کے لیے تلبیہ پکارو۔ عمرہ چھوڑ دے“ کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا جب میں نے حج کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا جہاں سے میں نے عمرے کا احرام باندھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیرا عمرہ پہلے رہ جانے والے تیرے عمرے کی جگہ ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا جن لوگوں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا انہوں نے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا پھر احرام کھول دیا پھر دوسرا طواف انہوں نے منی سے واپسی پر طواف حج کیا البتہ جن لوگوں نے حج و عمرہ جمع کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا تھا۔