حدیث نمبر: 451
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ لا نَرَى إِلا الْحَجَّ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفٍ أَوْ قَرِيبٍ مِنْهَا حِضْتُ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا لَكَ أَنَفِسْتِ ؟ " فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَلا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ " ، قَالَتْ : وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ .
نوید مجید طیب

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلے حتی کہ مقام سرف کے قرب و جوار پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے میں رو رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا بات ہے حیض آگیا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ معاملہ اللہ تعالیٰ نے بنات آدم پر لکھا ہے (تمہارا اس میں کیا اختیار تھا) تو بیت اللہ کے طواف کے علاوہ تمام حجاج والے کام کر“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 451
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحیض، باب کیف کان بدء الحیض، رقم: 294، صحیح مسلم، الحج، باب بیان وجوہ الاحرام ..... الخ، رقم: 1211