السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَهْلَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَكُنْتُ مِمَّنْ تَمَتَّعَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا حَاضَتْ وَلَمْ تَطْهُرْ حَتَّى دَخَلَتْ لَيْلَةَ عَرَفَةَ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أَطْهُرْ بَعْدُ وَإِنَّمَا كُنْتُ تَمَتَّعْتُ بِالْعُمْرَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَانْسُكِي عَنْ عُمْرَتِكِ " ، فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ وَنَفَرَ النَّاسُ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي نَسَكْتُ عَنْهَا .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے میں نے نبی ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کیا میں تمتع کرنے والوں میں سے تھی قربانی کا جانور ساتھ نہیں لے کر گئی تھی، کہتی ہیں میں حائضہ ہوگئی اور لیلتہ عرفہ تک حائضہ ہی رہی (یعنی حج سے پہلے عمرہ نہ کر سکی) تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ عرفہ کا دن ہے اور ابھی تک میں پاک نہیں ہوئی میں عمرہ کی نیت کر چکی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”سر کھول دے کنگی کر (یعنی غسل کر کے کنگی کر حج کا ارادہ کر لے) حج کے اعمال شروع کر لے عمرہ چھوڑ دے۔“ تو میں نے ایسا ہی کیا جب میں نے حج پورا کر لیا لوگ چلے گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے عبد الرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ مجھے تنعیم سے عمرہ کر لائے جس عمرے کی میں نے پہلے نیت کی تھی۔