السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 449
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ .نوید مجید طیب
شافعی عن سفیان بن عیینہ عن عبدالکریم جزری عن مجاہد عن عبدالرحمن بن ابی لیلی عن کعب بن عجرہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے مالک عن عبدالکریم والی حدیث کی طرح آئی ہے۔
وضاحت:
➊ تمام بالا احادیث میں حالت احرام میں سرمنڈانے کا فدیہ بیان ہوا ہے کہ مذکورہ کاموں میں سے جو دل چاہے اداء کر دے تین دن روزے، یہ نہیں کرنا تو چھ مساکین کو دو دو مد کھانا کھلا دو عموماً پیٹ اس مقدار سے بھر جاتا ہے یا پھر کوئی جانور جو میسر ہو جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «انسك بما تيسر» [صحيح بخاي: 1815]
ذبح کر کے فدیہ دیا جا سکتا ہے۔
➋ یہ حدیبیہ کا واقعہ ہے سب صحابہ رضی اللہ عنہم کا ارادہ عمرے کا تھا اور وہ احرام میں تھے۔
ذبح کر کے فدیہ دیا جا سکتا ہے۔
➋ یہ حدیبیہ کا واقعہ ہے سب صحابہ رضی اللہ عنہم کا ارادہ عمرے کا تھا اور وہ احرام میں تھے۔