حدیث نمبر: 430
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ النَّاسُ : هَلَكَتْ دَوْسٌ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمُ اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے کہنے لگے: اللہ کے رسول! دوس نے دعوت توحید کا انکار کیا اللہ کی نافرمانی کی ان پر بدعا فرمائیں تو رسول اللہ ﷺ نے قبلہ رخ ہو کر ہاتھ بلند کیے تو لوگوں نے کہا : دوس برباد ہو گئے لیکن رسول اللہ ﷺ نے دعا کی : ”اے اللہ! دوس کو ہدایت دے اور انہیں میرے پاس لے آ، اے اللہ! دوس کو ہدایت دے اور انہیں میرے پاس لے آ۔“

وضاحت:
➊ عرب کے تمام صوبوں میں سے یمن کا صوبہ سب سے بڑا تھا اور یمن کے بڑے قبائل میں سے ایک قبیلہ دوس کا تھا، سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ انتہائی فہم و ذہین انسان تھے۔ قادر الکلام ادیب اور شاعر تھے۔ مکہ مکرمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر اسلام قبول کیا، بعد ازاں اپنے قبیلے کے افراد کو مسلسل دعوتِ اسلام دیتے رہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنوں اور بیگانوں سبھی کے لیے رحمت بن کر آئے۔
➌ سات ہجری میں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے لیے مدینہ سے نکل چکے تھے، اہل دوس مدینہ تشریف لائے۔
➍ دوس قبیلہ کے پچھتر افراد نے اپنے سردار سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اسلام قبول کیا، راویِ حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا تعلق بھی دوس قبیلہ سے ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب عمارة الأرضين / حدیث: 430
تخریج حدیث صحیح بخاری، المغازی، باب قصة دوس والطفيل بن عمرو الدوسي، رقم: 4392، صحیح مسلم، فضائل الصحابة، باب من فضائل غفار و اسلم وجهينة الخ، رقم: 2524