السنن المأثورة
باب عمارة الأرضين— زمینوں کی آبادکاری کا بیان
باب عمارة الأرضين باب: زمینوں کی آبادکاری کا بیان
حدیث نمبر: 431
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْلا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصاری ہوتا اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری سے گزریں تو میں انصار کی وادی اور راستے پر چلنا پسند کروں گا۔“
وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ غزوہ حنین کے موقع پر اموالِ غنیمت کی تقسیم کے وقت ارشاد فرمائے تھے۔
➋ غزوہ حنین 8 ہجری میں ہوازن و ثقیف کے دو مضبوط عرب قبائل کے خلاف لڑا گیا۔
➌ مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی جس میں کثیر تعداد قریشِ مکہ کے نو مسلموں کی تھی۔
➍ اس غزوہ میں مسلمانوں کو مالِ غنیمت کی صورت میں چھ ہزار قیدی، چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی حاصل ہوئی۔ (رحمت عالم سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ ص: 104)
➋ غزوہ حنین 8 ہجری میں ہوازن و ثقیف کے دو مضبوط عرب قبائل کے خلاف لڑا گیا۔
➌ مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی جس میں کثیر تعداد قریشِ مکہ کے نو مسلموں کی تھی۔
➍ اس غزوہ میں مسلمانوں کو مالِ غنیمت کی صورت میں چھ ہزار قیدی، چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی حاصل ہوئی۔ (رحمت عالم سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ ص: 104)