السنن المأثورة
باب عمارة الأرضين— زمینوں کی آبادکاری کا بیان
باب عمارة الأرضين باب: زمینوں کی آبادکاری کا بیان
حدیث نمبر: 429
عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ , عَنْ حَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الأَزْرَقِيِّ ، قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَنِيَّةِ تَبُوكَ فَقَالَ : " مَا هَاهُنَا شَامٌ " ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى جِهَةِ الشَّامِ " وَمَا هَاهُنَا يَمَنٌ " ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى جِهَةِ الْمَدِينَةِ .نوید مجید طیب
حسن بن قاسم ازرقی رحمہ اللہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ تبوک کے ایک ٹیلے پر کھڑے ہوئے تو فرمایا : ”جو ادھر ہے یہ شام کا علاقہ ہے“ شام کی جانب اشارہ کیا ”اور جو ٹیلے سے ادھر ہے یہ یمن کا علاقہ ہے“ مدینہ کی طرف اشارہ کیا۔
وضاحت:
➊ یہ غزوہ تبوک کی بات ہے گویا کہ اس مقام پر یمن اور شام کے علاقوں کی سرحدیں جدا ہوتی تھیں۔ یہ مرسل روایت ہے، حسن بن قاسم رحمہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا۔
➋ غزوہ تبوک حجاز اور شام کی سرحد پر واقع تبوک کے مقام پر ہوا۔ تبوک کے اردگرد کچھ عرب سردار جو عیسائی ہو گئے تھے وہ رومیوں کی ماتحتی میں تھے۔ ان عرب سرداروں میں غسانی خاندان کے عرب سب سے زیادہ طاقتور تھے۔ مدینہ پر ان کے حملے کی خبر پہنچی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر تبوک پہنچے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ حملہ کی خبر غلط تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام تبوک پر انیس دن قیام کیا اور واپس تشریف لے آئے۔ اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس ہزار کے قریب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔
➋ غزوہ تبوک حجاز اور شام کی سرحد پر واقع تبوک کے مقام پر ہوا۔ تبوک کے اردگرد کچھ عرب سردار جو عیسائی ہو گئے تھے وہ رومیوں کی ماتحتی میں تھے۔ ان عرب سرداروں میں غسانی خاندان کے عرب سب سے زیادہ طاقتور تھے۔ مدینہ پر ان کے حملے کی خبر پہنچی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر تبوک پہنچے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ حملہ کی خبر غلط تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام تبوک پر انیس دن قیام کیا اور واپس تشریف لے آئے۔ اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس ہزار کے قریب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔