حدیث نمبر: 428
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَلْيَنُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً , الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ "
نوید مجید طیب

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس یمنی آئے ہیں جو نرم مزاج، نرم دل لوگ ہیں ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔“

وضاحت:
➊ اس حدیث میں اہل یمن کی فضیلت بیان ہوئی ہے، یمنی حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، حق بات کو جلد قبول کر لیتے ہیں اللہ نے امام شوکانی رحمہ اللہ، شیخ مقبل رحمہ اللہ جیسے حضرات ان میں پیدا کیے، برصغیر میں بھی یمن کے مشائخ کے طلبہ محبانِ حدیث آئے جنہوں نے برصغیر کا کونہ کونہ فنِ حدیث سے منور کیا۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے دعائے برکت فرمائی۔ [صحيح بخاري: 1027]
➌ حدیث میں اہل یمن کی نرم مزاجی اور علم و ایمان کے یقین کو واضح فرمایا گیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب عمارة الأرضين / حدیث: 428
تخریج حدیث صحیح البخاری، المغازی، باب قدوم الاشعريين واهل اليمن، رقم: 4390، صحیح مسلم، الایمان، باب تفاضل اهل الايمان فيه رقم: 52