السنن المأثورة
باب عمارة الأرضين— زمینوں کی آبادکاری کا بیان
باب عمارة الأرضين باب: زمینوں کی آبادکاری کا بیان
حدیث نمبر: 427
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلامِ إِذَا فَقِهُوا " .نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم لوگوں کو کانوں کی طرح پاؤ گے (کسی کان میں سے اچھا مال نکل آتا ہے اور کسی سے بُرا) جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں اچھی صفات کے مالک تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات کے مالک ہیں بشرطیکہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔“
وضاحت:
➊ بحیثیت انسان قریش افضل ہیں جن کی نسل سے اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا جبکہ اسلام آنے کے بعد وہی افضل ہے جس نے توحید قبول کی اگر کسی قریشی نے کفر و شرک پر ابوجہل کی طرح اصرار کیا اور اسی پر اس کی وفات ہوئی تو اس کی کوئی فضیلت نہیں بلکہ محض جہنم کا ایندھن ہے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ابوجہل سے افضل ہیں، ایسے ہی بے شمار سید کہلانے والے شرک کے بڑے بڑے داعی ہیں ان کی کوئی فضیلت نہیں، فضیلت اس وقت ہے جب «فقهوا فى الدين» وہ دین اسلام کی سمجھ حاصل کریں۔ عقیدہ و عمل پختہ کریں، کتاب و سنت کا قول و فعل میں التزام کریں۔
➋ قریش کی فضیلت میں وارد اکثر احادیث سنداً کمزور ہیں مجموعی اعتبار سے علامہ البانی رحمہ اللہ نے انہیں حسن کہا ہے۔ لہٰذا بحیثیت قوم قریش کو گالی دینا، برا سمجھنا ممنوع ہے کیونکہ ہر قوم میں اچھے لوگ بھی ہیں برے بھی، عام عرب میں بھی اتنے اعلیٰ کردار کے اچھے لوگ پائے جاتے ہیں کہ شاید پورے عجم میں ان کی مثال ملنی ممکن نہ ہو۔ اس لیے کسی بھی پوری قوم کو برا کہہ دینا درست نہیں۔
➌ فقاہت سے مراد قرآن و سنت کا گہرا فہم ہے قرآن و سنت میں جہاں بھی فقاہت کے فضائل آئے ہیں اس سے مراد قرآن و سنت کی سمجھ ہے محض رائے و قیاس کی کوئی فضیلت نہیں بلکہ مذموم ہے جس کے بہت سے دلائل ہیں۔
➍ قریش امانت والے ہیں سے بعض نے مراد خلافت کی ہے جیسا کہ الائمة من قریش ہے۔ اس کے علاوہ بھی ان کے پاس امانتیں ہیں، کعبہ کی کنجی، کعبہ کی تولیت، حج کے امور، مسلمانوں کی رہنمائی، توحید کی حفاظت، صحابہ کا دفاع وغیرہ وغیرہ۔
➋ قریش کی فضیلت میں وارد اکثر احادیث سنداً کمزور ہیں مجموعی اعتبار سے علامہ البانی رحمہ اللہ نے انہیں حسن کہا ہے۔ لہٰذا بحیثیت قوم قریش کو گالی دینا، برا سمجھنا ممنوع ہے کیونکہ ہر قوم میں اچھے لوگ بھی ہیں برے بھی، عام عرب میں بھی اتنے اعلیٰ کردار کے اچھے لوگ پائے جاتے ہیں کہ شاید پورے عجم میں ان کی مثال ملنی ممکن نہ ہو۔ اس لیے کسی بھی پوری قوم کو برا کہہ دینا درست نہیں۔
➌ فقاہت سے مراد قرآن و سنت کا گہرا فہم ہے قرآن و سنت میں جہاں بھی فقاہت کے فضائل آئے ہیں اس سے مراد قرآن و سنت کی سمجھ ہے محض رائے و قیاس کی کوئی فضیلت نہیں بلکہ مذموم ہے جس کے بہت سے دلائل ہیں۔
➍ قریش امانت والے ہیں سے بعض نے مراد خلافت کی ہے جیسا کہ الائمة من قریش ہے۔ اس کے علاوہ بھی ان کے پاس امانتیں ہیں، کعبہ کی کنجی، کعبہ کی تولیت، حج کے امور، مسلمانوں کی رہنمائی، توحید کی حفاظت، صحابہ کا دفاع وغیرہ وغیرہ۔