السنن المأثورة
باب عمارة الأرضين— زمینوں کی آبادکاری کا بیان
باب عمارة الأرضين باب: زمینوں کی آبادکاری کا بیان
حدیث نمبر: 424
عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رِفَاعَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ قُرَيْشًا أَهْلُ أَمَانَةٍ مَنْ بَغَاهُمُ الْعَوَافِرَ أَكَبَّهُ اللَّهُ لِمَنْخِرَيْهِ " يَقُولُهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هَكَذَا قَرَأَهُ الْمُزَنِيُّ عَلَيْنَا " أَهْلُ أَمَانَةٍ " وَإِنَّمَا هُوَ أَهْلُ إِمَامَةٍ وَقَالَ : " الْعَوَافِرَ " وَإِنَّمَا هُوَ " الْعَوَاثِرَ " .نوید مجید طیب
سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا : ”اے لوگو! قریش امانت والے ہیں جو ان کو ذلیل کرے گا یا ان کے فضائل کا انکار کرے گا اللہ اسے پیشانی کے بل (جہنم میں اوندھا کرے گا)“ یہ تین دفعہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں عوافر کا مطلب عواثر ہے (عواثر کا معنی خصلت سقوط، اور ذلت کیا گیا ہے)۔