السنن المأثورة
باب عمارة الأرضين— زمینوں کی آبادکاری کا بیان
باب عمارة الأرضين باب: زمینوں کی آبادکاری کا بیان
حدیث نمبر: 423
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَمَى الْجَمْرَةَ وَنَحَرَ نُسُكَهُ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ، ثُمَّ نَاوَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَلْحَةَ ، ثُمَّ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الأَيْسَرَ فَحَلَقَهُ ، ثُمَّ " أَمَرَ أَبَا طَلْحَةَ أَنْ يَقْسِمَهُ بَيْنَ النَّاسِ .نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے جب جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں ماریں اور قربانی ذبح کر لی تو حجام کی طرف سر کا دائیں حصہ کیا اس نے سر مونڈا تو نبی ﷺ نے وہ بال ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیے پھر حجام کی جانب سر کی بائیں جانب کی اُس نے وہ بھی مونڈی تو رسول اللہ ﷺ نے وہ بال پھر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیئے اور فرمایا: ”بائیں جانب والے لوگوں میں تقسیم کر دو۔“
وضاحت:
➊ سنت طریقہ یہی ہے پہلے دائیں جانب کے بال کاٹے جائیں پھر بائیں جانب کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معمول کے امورِ خیر بھی دائیں جانب سے آغاز فرما کر ادا کرتے تھے۔
➋ برکت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک تقسیم کیے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے، کسی ولی یا صالح بندے کی یہ خصوصیت نہیں، کیونکہ نبی کی خاصیت امتی میں منتقل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی سلف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ سے اس طرح کا معاملہ کیا فافہم جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک باعث برکت تھا لیکن امت کا تھوک باعث جراثیم اور کرونا ہے۔
➌ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اشیاء سے تبرک حاصل کرنے کا عقیدہ اسلافِ امت میں موجود تھا اور خلف بھی اس کے قائل ہیں۔
➍ جس چیز کی نسبت نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جڑ گئی وہ شرف و عزت اور تکریم میں ممتاز ٹھہری، آج ہم فقیروں کی پہچان بھی محض نسبتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے: تیری نسبت سے ہے توقیر میری لوگوں میں
یہ حوالہ نہ ہو تو مری ذات میں رکھا کیا ہے
➋ برکت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک تقسیم کیے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے، کسی ولی یا صالح بندے کی یہ خصوصیت نہیں، کیونکہ نبی کی خاصیت امتی میں منتقل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی سلف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ سے اس طرح کا معاملہ کیا فافہم جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک باعث برکت تھا لیکن امت کا تھوک باعث جراثیم اور کرونا ہے۔
➌ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اشیاء سے تبرک حاصل کرنے کا عقیدہ اسلافِ امت میں موجود تھا اور خلف بھی اس کے قائل ہیں۔
➍ جس چیز کی نسبت نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جڑ گئی وہ شرف و عزت اور تکریم میں ممتاز ٹھہری، آج ہم فقیروں کی پہچان بھی محض نسبتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے: تیری نسبت سے ہے توقیر میری لوگوں میں
یہ حوالہ نہ ہو تو مری ذات میں رکھا کیا ہے