حدیث نمبر: 425
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ وَقَعَ بِقُرَيْشٍ فَكَأَنَّهُ نَالَ مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلا يَا قَتَادَةُ لا تَشْتُمْ قُرَيْشًا فَإِنَّكَ لَعَلَّكَ تَرَى مِنْهُمْ رِجَالا أَوْ يَأْتِي مِنْهُمْ رِجَالٌ تَحْقِرُ عَمَلَكَ مَعَ عَمَلِهِمْ وَفِعَالَكَ مَعَ فِعَالِهِمْ وَتُعَظِّمُهُمْ إِذَا رَأَيْتَهُمْ لَوْلا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ لأَخْبَرْتُهَا بِالَّذِي لَهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
نوید مجید طیب

سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے قریش کے بارے میں کوئی بری بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قتادہ قریش سے متعلق خود کو روک لو اور انہیں گالی مت دو شاید تو دیکھے کہ تیرا عمل و فعل قریشی کے مقابلے میں حقیر ہو اور تو ان کو دیکھ کر رشک کرے اگر قریش کی سرکشی کا ڈر نہ ہوتا تو میں ان کو بتا دیتا کہ اُن کا اللہ کے ہاں کیا مقام ہے۔“

وضاحت:
روایت اگرچہ ضعیف ہے تاہم قریشی توحید والا ہے تو قابل احترام ہے اگر مشرک ہے تو مانند ابوجہل ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب عمارة الأرضين / حدیث: 425
تخریج حدیث مسند احمد: 135/45، رقم: 27158 وقال الارنوؤط: اسناده ضعيف