السنن المأثورة
باب عمارة الأرضين— زمینوں کی آبادکاری کا بیان
باب عمارة الأرضين باب: زمینوں کی آبادکاری کا بیان
حدیث نمبر: 422
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ فَأَمَرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ ، فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيْنَا مِنْهَا شَيْءٌ ؟ قَالَ : " فَانْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ " .نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کے ساتھ قربانی کے اٹھارہ جانور بھیجے تو کچھ احکام اس بارے صادر فرمائے وہ آدمی چلا پھر واپس آیا تو کہنے لگا کہ کیا حکم ہے اگر کوئی پاؤں گھسیٹنے لگے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو ذبح کر دو، اس کے (گلے میں ڈالے گئے) جوتے کو خون سے مل کر (بطور نشانی) اس کے پہلو میں رکھ دینا تو اور تیرے ساتھیوں میں سے کوئی نہ کھائے۔“
وضاحت:
➊ ہدی کا جانور اگر راستے میں مرنے لگے تو اسے ذبح کر کے اس پر خون ملنا ہے تاکہ معلوم ہو یہ حج کے لیے تھا، لوگ پہچان لیں اور کھائیں۔
➋ ہدی لے جانے والا اور اس کا قافلہ اس سے کچھ نہ کھائے جبکہ دوسرے راہگیر مسافر، یا دوسرے حاجی، یا مقامی افراد کھا لیں۔
➌ بغیر کسی مجبوری کے ایسے جانوروں کو راستے میں ذبح کرنا درست نہیں۔
➋ ہدی لے جانے والا اور اس کا قافلہ اس سے کچھ نہ کھائے جبکہ دوسرے راہگیر مسافر، یا دوسرے حاجی، یا مقامی افراد کھا لیں۔
➌ بغیر کسی مجبوری کے ایسے جانوروں کو راستے میں ذبح کرنا درست نہیں۔