السنن المأثورة
باب تفسير الفرعة والعتيرة— فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
باب تفسير الفرعة والعتيرة باب: فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 410
وَأَخْبَرَنِي وَأَخْبَرَنِي مَنْ أَثِقُ بِهِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " لَمَّا جَلْدَ الثَّلاثَةَ اسْتَتَابَهُمْ فَرَجَعَ اثْنَانِ فَقَبِلَ شَهَادَتَهُمَا وَأَبَى أَبُو بَكْرَةَ أَنْ يَرْجِعَ فَرَدَّ شَهَادَتَهُ " .نوید مجید طیب
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل مدینہ کے ثقہ نے زہری رحمہ اللہ کے بارے میں بتایا کہ وہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب تین آدمیوں کو کوڑے مارے تو اُن سے توبہ طلب کی تو دو نے توبہ کر لی تو اُن کی شہادت قبول ہونے لگی، ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے توبہ کرنے سے انکار کر دیا تو ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کو (آئندہ کے لیے) رد کر دیا۔