حدیث نمبر: 411
وَأَخْبَرَنِي وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، فِي الْقَاذِفِ إِذَا تَابَ قَالَ : تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ وَقَالَ : كُلُّنَا نَقُولُهُ : عَطَاءٌ وَطَاوُسٌ وَمُجَاهِدٌ . أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : " لَيْسَ لِلْقَاضِي أَنْ يُجْبِرَ الرَّجُلَ عَلَى أَخْذِ الْوَدِيعَةِ " .
نوید مجید طیب

ابن ابی نجیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاذف (تہمت لگانے والا) اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی (بعد کے مقدمات میں) گواہی قابل قبول ہو گی یہی بات عطاء، طاؤس، مجاہد رحمہم اللہ بھی کہتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قاضی وقت کسی کو کوئی چیز بطور امانت پاس رکھنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔

وضاحت:
➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ‎﴿4﴾‏ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ [النور: 4، 5]
اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، پھر وہ چار گواہ نہیں لاتے، تو تم انہیں اسی کوڑے مارو، اور تم ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ نافرمان ہیں۔ مگر اس کے بعد جن لوگوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی، تو بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے۔
➋ قاذف سے توبہ پر حد معاف نہ ہوگی البتہ توبہ و اصلاح کے بعد اس سے فسق کا حکم اٹھ جائے گا۔
➌ قاذف کے مردود الشہادۃ ہونے کا سبب اس کا فسق ہے جب توبہ و اصلاح کے بعد فسق ختم ہو گیا تو وہ اس قابل ہے کہ اس کی شہادت قبول کی جائے۔
➍ جن لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ قاذف کی توبہ و اصلاح کے بعد بھی شہادت مقبول نہیں ان کا قول مرجوع ہے۔
➎ قاذف اپنا دعویٰ ثابت نہ کر سکے تو اس پر بہتان کی حد اسی کوڑے لگے گی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 411
تخریج حدیث السنن الكبرى للبيهقى: 153/10 ، مصنف عبدالرزاق: 383/7 ۔