السنن المأثورة
باب تفسير الفرعة والعتيرة— فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
باب تفسير الفرعة والعتيرة باب: فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
عَنْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ : زَعَمَ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنَّ شَهَادَةَ الْقَاذِفِ لا تَجُوزُ ، وَأَشْهَدُ لأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لأَبِي بَكْرَةَ : " تُبْ تُقْبَلْ شَهَادَتُكَ ، أَوْ إِنْ تُبْتَ قُبِلَتْ شَهَادَتُكَ " . يُحَدِّثُ 25 بِهِ هَكَذَا مِرَارًا ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : شَكَكْتُ فِيهِ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي ، فَلَمَّا قُمْتُ سَأَلْتُ ، فَقَالَ لِي عُمَرُ وَحَضَرَ الْمَجْلِسَ مَعِي هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ : أَشَكَكْتَ فِيهِ حِينَ أَخْبَرَكَ أَنَّهُ سَعِيدٌ ؟ فَقَالَ : لا هُوَ كَمَا قَالَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ دَخَلَنِي الشَّكُّ . قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : عُمَرُ هَذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ أَخُو حُمَيْدِ بْنُ قَيْسٍ الَّذِي قَالَ عَنْهُ مَالِكٌ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ وَهُمْ يَتَكَلَّمُونَ فِي حَدِيثِهِ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ التَّنُّورِيُّ يُعْرَفُ عُمَرُ هَذَا بِسَنْدَلٍ .سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے سنا کہہ رہے تھے کہ اہل عراق کا خیال ہے قاذف کی شہادت جائز نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کو کہا تھا ”توبہ کر لو تو تمہاری شہادت قبول کر لی جائے گی“ یا کہا تھا کہ ”اگر تو نے توبہ کر لی تو میں تمہاری شہادت قبول کروں گا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ متعدد بار ایسے ہی بیان کرتے تھے پھر ایک دفعہ کہنے لگے کہ مجھے اس میں شک ہو گیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے فلاں نے خبر دی (پھر نام بھی لیا لیکن میں اس راوی کا نام یاد نہ کر سکا) تو میں نے اس کے متعلق سوال کیا تو مجھے میرے کلاس فیلو عمرو بن قیس رحمہ اللہ نے کہا وہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ ہیں تو سفیان رحمہ اللہ (پھر) سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے نام میں شک نہیں کرتے تھے۔