السنن المأثورة
باب تفسير الفرعة والعتيرة— فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
باب تفسير الفرعة والعتيرة باب: فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 408
قَالَ سُفْيَانُ : أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : قَدْ كَانَ سُفْيَانُ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ وَلا يَذْكُرُ فِيهِ : " وَضْعِ الْجَوَائِحِ " وَقَالَ : إِنِّي لَمْ أتْرُكْ " وَضَعِ الْجَوَائِحِ " لأَنَّهُ لَيْسَ فِي الْحَدِيثِ وَلَكِنْ كَانَ كَلامٌ قَبْلَ " وَضَعِ الْجَوَائِحِ " لَمْ أَحْفَظْهُ .نوید مجید طیب
سفیان رحمہ اللہ نے کہا ہمیں خبر دی ابو زبیر رحمہ اللہ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی ہے۔ امام مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ سفیان رحمہ اللہ یہ حدیث بیان کرتے تو وضع الجوائح کا ذکر نہ کرتے اور کہتے کہ یہ لفظ میں نے اس لیے نہیں چھوڑے کہ یہ اس حدیث میں نہیں تھے بلکہ «وضع الجوائح» سے قبل بھی کچھ الفاظ تھے جو مجھے یاد نہیں آرہے۔ (اس لیے اگلے بیان نہیں کرتا کیونکہ معنی کچھ باقی رہ جاتا ہے)
وضاحت:
➊ سلف احادیث کے بیان کرنے میں انتہائی محتاط تھے یہ احتیاط حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے تھی جیسا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مجھے بکثرت احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرنے سے روکتا ہے۔ [صحيح بخاري، رقم الحديث: 108، صحيح مسلم، رقم الحديث: 2]
➋ محدثین کرام نے دین کی حفاظت کا فریضہ بخوبی انجام دیا کہ ایک ایک کلمہ کو انتہائی احتیاط سے ذکر کیا ہے۔
خدا رحمت کنند این عاشقان پاک طینت را
➋ محدثین کرام نے دین کی حفاظت کا فریضہ بخوبی انجام دیا کہ ایک ایک کلمہ کو انتہائی احتیاط سے ذکر کیا ہے۔
خدا رحمت کنند این عاشقان پاک طینت را