حدیث نمبر: 407
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ " .
نوید مجید طیب

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کے لیے بیع کرنے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ آفات سے نقصان پہنچ جانے کی صورت میں قیمت ساقط کر دی جائے۔

وضاحت:
➊ بیع السنین کا مطلب متعدد سالوں کے لیے درختوں کے پھل فروخت کر دینا ہے، یہ درست نہیں کیونکہ کیا پتا آئندہ سال پھل آئے نہ آئے، یہ بیع معدوم ہے اور اس میں دھوکا بھی ہے اس لیے اس سے منع فرمایا ہے۔
➋ آفت سے ایک خریدار کا مال ضائع ہو گیا تھا اور وہ کنگال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صدقہ کا حکم دیا، پھر بھی قرض پورا نہ ہوا تو مالکان کو بقیہ قیمت ساقط کرنے کا حکم دیا، یہی انسانی ہمدردی ہے۔
➌ مزید مسائل کی توضیح کے لیے دیکھئے شرح حدیث نمبر 194، 195۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 407
تخریج حدیث تقدم تخرجه برقم: 197 ۔