السنن المأثورة
باب تفسير الفرعة والعتيرة— فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
باب تفسير الفرعة والعتيرة باب: فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 404
أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنَّ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ " . وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَصُومُ قَبْلَهُ بِيَوْمٍ فَقُلْتُ : تَتَقَدَّمُهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”روزہ نہ رکھو حتی کہ رمضان کا چاند دیکھ لو اور افطار نہ کرو حتی کہ عید کا چاند دیکھ لو اگر آسمان ابر آلود ہو تو تمہیں روزے پورے کرو۔“ راوی کہتے ہیں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایک دن پہلے روزہ رکھتے تھے راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا استقبالیہ؟ استاذ نے جواب دیا ہاں۔
وضاحت:
مسئلہ کی توضیح کے لیے دیکھئے شرح حدیث نمبر 341۔