السنن المأثورة
باب تفسير الفرعة والعتيرة— فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
باب تفسير الفرعة والعتيرة باب: فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، قَالَ : ذُكِرَ لابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَلا هَذِهِ الآيَةَ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284 فَبَكَى ، ثُمّ قَالَ : وَاللَّهِ لَئِنْ آخَذَنَا اللَّهُ بِهَا لَنَهْلَكَنَّ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ وَجَدَ الْمُسْلِمُونَ مِنْهَا حِينَ نَزَلَتْ مَا وَجَدَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ سورة البقرة آية 286 مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ وَكَانَ حَدِيثُ النَّفْسِ مِمَّا لا يَمْلِكُهُ أَحَدٌ وَلا يَقْدِرُ عَلَيْهِ أَحَدٌ " .
═════ متابعت ═════
أَخْبَرَنِي أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : قَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لِلَّحَوَارِيِّينَ : " كَمَا تَرَكَ لَكُمُ الْمُلُوكُ الْحِكْمَةَ فَاتْرُكُوهُمْ وَالدُّنْيَا " ، وَكَانَ خَلَفٌ يَقُولُ : يَنْبَغِي لِلنَّاسِ أَنْ يَتَعَلَّمُوا هَذِهِ الأَبْيَاتِ فِي الْفِتْنَةِ : الْحَرْبُ أَوَّلَ مَا تَكُونُ فَتِيَّةٌ تَسْعَى بِزِينَتِهَا لِكُلِّ جَهُولِ حَتَّى إِذَا اشْتَعَلَتْ وَشَبَّ ضِرَامُهَا وَلَّتْ عَجُوزًا غَيْرَ ذَاتِ حَلِيلِ شَمْطَاءَ جَزَّتْ رَأْسَهَا وَتَنَكَّرَتْ مَكْرُوهَةً لِلشَّمِّ وَالتَّقْبِيلِ .ابن مرجانہ کہتے ہیں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا گیا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی کہ : ”اگر تم دل میں کچھ ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تم سے اس پر حساب لے گا۔“ تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رو پڑے کہنے لگے اگر اللہ تعالیٰ نے اس پر ہمارا محاسبہ کیا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ رحم کرے ابن عمر رضی اللہ عنہما پر، جب یہ آیت نازل ہوئی مسلمانوں پر شاق گزری تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا: تو یہ آیت نازل ہوئی : ”اللہ تعالی کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جو نیکی کرے وہ اس کے لیے ہے اور جو برائی کرے اس کا وبال بھی اسی پر ہے۔“ قول ہو یا عمل اور دل کے وساوس پر کسی کا کنٹرول نہیں نہ کسی کی قدرت ہے۔
➋ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے میری امت کے لوگوں کے وہ خیالات اور وساوس معاف کر دیے گئے ہیں جو ان کے دلوں میں آئیں جب تک کہ وہ ان کو زبان پر نہ لائیں یا ان کے مطابق عمل نہ کریں۔ [صحیح مسلم: 5229]