السنن المأثورة
باب تفسير الفرعة والعتيرة— فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
باب تفسير الفرعة والعتيرة باب: فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 403
وَقَدْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطِّيَرَةِ فَقَالَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلا يَصُدَّنَّكُمْ".
═════ متابعت ═════
أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ وَالرَّبِيعُ الْمُرَادِيُّ جَمِيعًا عَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا فيهِ الشَّعْرَ الَّذِي ذَكَرَهُ الْمُزَنِيُّ . أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ أَبِي عِمْرَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ شُرَيْحٍ النَّقَّالَ ، يَقُولُ : كُنَّا عِنْدَ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَمَعَنَا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، يَوْمَئِذٍ بِحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ هَذَا ، فَالْتَفَتَ سُفْيَانُ إِلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فَسَأَلَهُ عَنْ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " فَأَجَابَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِمِثْلِ هَذَا الْجَوَّابِ بِعَيْنِهِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ عَنِ الْمُزَنِيِّ عَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْبَيْتَيْنِ مِنَ الشَّعْرِ اللَّذَيْنِ ذَكَرَهُمَا الْمُزَنِيُّ فَسَكَتَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا .
═════ متابعت ═════
أَخْبَرَنِي مَنْ ، سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ ، مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْفَرَعَةِ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْفَرَعَةَ حَقٌّ وَأَنْ تَغْذُوَهُ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ لَبُونٍ زُخْرُبًّا فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُكْفَأَ إِنَاؤُكَ وَتُولَهُ نَاقَتُكَ وَتَأْكُلَهُ ، يَتَلَصَّقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ " . قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَقَوْلُهُ " الْفَرَعَةُ حَقٌّ " يَعْنِي أَنَّهَا لَيْسَتْ بِبَاطِلٍ وَلَكِنَّهُ كَلامٌ عَرَبِيٌّ يَخْرُجُ عَلَى جَوَّابِ السَّائِلِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا فَرَعَةَ وَلا عَتِيرَةَ " وَلَيْسَ هَذَا بِاخْتِلافٍ مِنَ الرِّوَايَةِ إِنَّمَا هَذَا لا فَرَعَةَ وَاجِبَةٌ وَلا عَتِيرَةَ وَاجِبَةٌ وَالْحَدِيثُ الآخَرُ يَدُلُّ عَلَى مَعْنَى ذَا أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُ الذَّبْحَ وَاخْتَارَ لَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ يَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَالْعَتِيرَةُ هِيَ الرَّجِبِيَّةُ وَهِيَ ذَبِيحَةٌ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَرَّرُونَ بِهَا فِي رَجَبَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا عَتِيرَةَ " عَلَى مَعْنَى لا عَتِيرَةَ لازِمَةٌ وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ : " اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ وَأَطْعِمُوا " أَيِ اذْبَحُوا إِنْ شِئْتُمْ وَاجْعَلُوا الذَّبِيحَةَ لِلَّهِ لا لِغَيْرِهِ وَفِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ لا أَنَّهَا فِي رَجَبَ دُونَ مَا سِوَاهُ مِنَ الشُّهُورِ وَقَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَالْعَقِيقَةُ مَا عَرَفَ النَّاسُ وَهُوَ ذَبْحٌ كَانَ يُذْبَحُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَنِ الْمَوْلُودِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِسْلامِ وَقَدْ كَرِهَ مِنْهُ الاسْمَ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ فِي حَدِيثِهِ : فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ : " لا أُحِبُّ الْعُقُوقَ وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَرِهَ الاسْمَ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ " .
═════ متابعت ═════
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ بِالتَّخْفِيفِ أَسْأَلُهُ عَنْ لُحُومِ الْهَدْيِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا " ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " . قَالَ وَسَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " : إِنَّ عِلْمَ الْعَرَبِ كَانَ فِي زَجْرِ الطَّيْرِ وَالْبُوارِحِ وَالْخَطِّ وَالاعْتِيَافِ ، كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا غَدَا مِنْ مَنْزِلِهِ يُرِيدُ أَمْرًا نَظَرَ أَوَّلَ طَائِرٍ يَرَاهُ فَإِنْ سَنَحَ عَنْ يَسَارِهِ وَاجْتَازَ عَنَ يَمِينِهِ قَالَ : هَذِهِ طَيْرُ الأَيَامِنِ فَمَضَى فِي حَاجَتِهِ وَرَأَى أَنَّهُ سَيَسْتَنْجِحُهَا وَإِنْ سَنَحَ عَنْ يَمِينِهِ فَمَرَّ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ : هَذِهِ طَيْرُ الأَشَائِمِ فَرَجَعَ وَقَالَ : هَذِهِ حَاجَةٌ مَشْئُومَةٌ . وَقَالَ الْحُطَيْئَةُ يَمْدَحُ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لا يَزْجُرُ الطَّيْرَ سُنُحًا إِنْ عَرَضْنَ لَهُ وَلا يُفِيضُ عَلَى قِسْمٍ بِأَزْلامِ يَعْنِي أَنَّهُ سَلَكَ طَرِيقَ الإِسْلامِ فِي التَّوَكُّلِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ بَعْضُ الشُّعَرَاءِ يَمْدَحُ نَفْسَهُ : وَلا أَنَا مِمَّنْ يَزْجُرُ الطَّيْرَ هَمَّهُ أَصَاحَ غُرَابٌ أَمْ تَعَرَّضَ ثَعْلَبُ وَكَانَ الْعَرَبِيُّ إِذَا لَمْ يَرَ طَائِرًا سَانِحًا فَرَأَى طَيْرًا فِي وَكْرِهِ حَرَّكَهُ مِنْ وَكْرِهِ لِيُطَيِّرَهُ لَيَنْظُرَهُ أَسَلَكَ طَرِيقَ الأَشَائِمِ أَوْ طَرِيقَ الأَيَامِنِ ؟ فَيُشْبِهُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " أَيْ لا تُحَرِّكُوهَا فَإِنَّ تَحْرِيكَهَا وَمَا تَعْلَمُونَ بِهِ مِنَ الطِّيَرَةِ لا يَصْنَعُ شَيْئًا وَإِنَّمَا يَصْنَعُ فِيمَا تَتَوَجَّهُونَ لَهُ قَضَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَدْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطِّيَرَةِ فَقَالَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلا يَصُدَّنَّكُمْ " . أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ وَالرَّبِيعُ الْمُرَادِيُّ جَمِيعًا عَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا فيهِ الشَّعْرَ الَّذِي ذَكَرَهُ الْمُزَنِيُّ . أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ أَبِي عِمْرَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ شُرَيْحٍ النَّقَّالَ ، يَقُولُ : كُنَّا عِنْدَ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَمَعَنَا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، يَوْمَئِذٍ بِحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ هَذَا ، فَالْتَفَتَ سُفْيَانُ إِلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فَسَأَلَهُ عَنْ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " فَأَجَابَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِمِثْلِ هَذَا الْجَوَّابِ بِعَيْنِهِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ عَنِ الْمُزَنِيِّ عَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْبَيْتَيْنِ مِنَ الشَّعْرِ اللَّذَيْنِ ذَكَرَهُمَا الْمُزَنِيُّ فَسَكَتَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا .نوید مجید طیب
رسول اللہ ﷺ سے الطيرة (پرندوں سے بدشگونی) کے بارے میں سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ وسواس ہیں یہ تمہیں سفر سے مت روکیں۔“
وضاحت:
➊ عقیقہ بچے کی پیدائش کے ساتویں روز گوشت توڑنے کو کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظی اعتبار سے لفظ عقیقہ ناپسند کیا لیکن منع نہیں فرمایا۔
➋ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اچھے الفاظ جن کا معنی بھی خوبصورت ہوتا، جیسے سہل (آسان)، سالم (سلامتی والا)، اس طرح کے نام سے اچھا فال لیا کرتے تھے کیونکہ خوبصورت لوگ خوبصورت الفاظ سننا پسند کرتے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم کو نام تبدیل کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ عقوق نافرمانی اور رشتہ ناطہ توڑنے کے معنی میں بھی آتا ہے اس لیے ناپسند کیا لیکن یہ نام استعمال کرنا جائز ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی یہ نام استعمال کیا، اس سے منع نہیں فرمایا۔
➌ عقیقہ ساتویں دن ہی کرنا سنت ہے لیکن بطور قضاء بعد میں کرنا متعدد جید علماء نے درست کہا ہے کیونکہ یہ گناہ نہیں اس کے فوائد ہی سامنے آئیں گے۔
➍ عقیقہ کے لیے قربانی کی شرائط نہیں ہیں البتہ جانور معقول ہونا چاہیے، معیوب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ اولاد کے سر کا صدقہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی عقیقہ موجود تھا لیکن طریقہ کار مختلف تھا، جانور ذبح کر کے خون بچے کے سر پر لگا دیتے تھے، اس جاہلانہ کام سے اسلام نے منع کیا۔
➎ ساتویں دن بچے کے بال کاٹ کر ان کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنا چاہیے، بچے کے سر پر زعفران کی خوشبو لگانا صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔
➏ لڑکے کی جانب سے دو بکریاں، مذکر ہوں یا مؤنث کوئی حرج نہیں، جبکہ لڑکی کی طرف سے ایک بکری صدقہ کرنا ہے۔ اگر استطاعت نہیں تو لڑکے کی طرف سے بھی ایک ہی بکری ذبح کی جا سکتی ہے۔
➐ عقیقے میں اونٹ یا گائے دینا جائز نہیں، لہذا نہ قربانی میں عقیقہ کا حصہ پڑے گا نہ ہی گائے میں سات بچوں کا عقیقہ ہوگا۔
➑ ہر بچہ اپنے عقیقے کے عوض گروی پڑا ہوتا ہے، ساتویں دن جانور ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈوایا جائے اور نام رکھا جائے۔ [سنن ترمذی: 1522]
گروی کا معاوضہ دے کر جان چھڑانی پڑتی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عقیقہ لازمی ہے۔
➒ اگر بچہ ساتویں روز سے قبل فوت ہو جائے تو عقیقہ نہیں، اگر اس کے بعد فوت ہوا تو عقیقہ دینا چاہیے، امام احمد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جس بچے کا عقیقہ نہیں کیا گیا وہ سفارش نہیں کرے گا۔
➓ عقیقہ میں دونتا کی شرط نہیں لیکن جانور اچھا ہونا چاہیے جیسا کہ لفظ شاۃ کا تقاضا ہے۔
⓫ عقیقہ کے جانور عمر، وزن اور قد کاٹھ میں باہم مماثل ہونے چاہئیں۔ [سنن ابی داؤد: 2834]
⓬ بعض لوگ نیا گھر بناتے ہوئے بنیادوں میں جانور ذبح کر کے خون بہاتے ہیں، بعض نئی اشیاء کے ساتھ خون لگاتے ہیں، یہ سب تو ہم پرستی اور بدعقیدگی کا مظہر ہیں۔
⓭ بدشگونی تو ہم پرستی سب ابوجہل کی سنتیں، طور طریقے اور شیطانی وساوس ہیں اور اس کی کوئی حقیقت نہیں، اسلام کی منشاء یہ ہے کہ حقیقت کی زندگی جیو اور خود کو مضبوط بنا کر توکل علی اللہ مستحکم کرو۔
⓮ سوموار کو سفر نہ کرنا، صبح بلی نظر آ جائے تو سفر ترک کر دینا یا محرم وصفر کو منحوس سمجھتے ہوئے شادی بیاہ کا انعقاد نہ کرنا وغیرہ، اسلام میں ان تمام باتوں کا کوئی تصور نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کا رد کرنے آئے تھے، جو اب بھی ان باتوں پر توجہ کرتا ہے وہ دوبارہ جاہلیت میں زندگی بسر کرنا چاہتا ہے۔
⓯ طوطے والوں یا پیروں کے پاس جا کر غیب کی خبریں یا ہاتھ کی لکیروں پر یقین رکھنا بدعقیدگی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی غیب کے دعویدار کے پاس جائے اور اس سے اپنی قسمت کے ستارے کی گردش کا سوال کرے، اللہ اس کی چالیس دن تک نماز ہی قبول نہیں فرماتے۔ [صحیح مسلم: 2230]
مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کاہن سے غیبی معاملات کے بارے میں پوچھنے گیا اور اس کے کہے کو سچ مانا تو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ دین کے ساتھ کفر کیا۔ [سنن ترمذی: 135]
➋ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اچھے الفاظ جن کا معنی بھی خوبصورت ہوتا، جیسے سہل (آسان)، سالم (سلامتی والا)، اس طرح کے نام سے اچھا فال لیا کرتے تھے کیونکہ خوبصورت لوگ خوبصورت الفاظ سننا پسند کرتے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم کو نام تبدیل کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ عقوق نافرمانی اور رشتہ ناطہ توڑنے کے معنی میں بھی آتا ہے اس لیے ناپسند کیا لیکن یہ نام استعمال کرنا جائز ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی یہ نام استعمال کیا، اس سے منع نہیں فرمایا۔
➌ عقیقہ ساتویں دن ہی کرنا سنت ہے لیکن بطور قضاء بعد میں کرنا متعدد جید علماء نے درست کہا ہے کیونکہ یہ گناہ نہیں اس کے فوائد ہی سامنے آئیں گے۔
➍ عقیقہ کے لیے قربانی کی شرائط نہیں ہیں البتہ جانور معقول ہونا چاہیے، معیوب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ اولاد کے سر کا صدقہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی عقیقہ موجود تھا لیکن طریقہ کار مختلف تھا، جانور ذبح کر کے خون بچے کے سر پر لگا دیتے تھے، اس جاہلانہ کام سے اسلام نے منع کیا۔
➎ ساتویں دن بچے کے بال کاٹ کر ان کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنا چاہیے، بچے کے سر پر زعفران کی خوشبو لگانا صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔
➏ لڑکے کی جانب سے دو بکریاں، مذکر ہوں یا مؤنث کوئی حرج نہیں، جبکہ لڑکی کی طرف سے ایک بکری صدقہ کرنا ہے۔ اگر استطاعت نہیں تو لڑکے کی طرف سے بھی ایک ہی بکری ذبح کی جا سکتی ہے۔
➐ عقیقے میں اونٹ یا گائے دینا جائز نہیں، لہذا نہ قربانی میں عقیقہ کا حصہ پڑے گا نہ ہی گائے میں سات بچوں کا عقیقہ ہوگا۔
➑ ہر بچہ اپنے عقیقے کے عوض گروی پڑا ہوتا ہے، ساتویں دن جانور ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈوایا جائے اور نام رکھا جائے۔ [سنن ترمذی: 1522]
گروی کا معاوضہ دے کر جان چھڑانی پڑتی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عقیقہ لازمی ہے۔
➒ اگر بچہ ساتویں روز سے قبل فوت ہو جائے تو عقیقہ نہیں، اگر اس کے بعد فوت ہوا تو عقیقہ دینا چاہیے، امام احمد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جس بچے کا عقیقہ نہیں کیا گیا وہ سفارش نہیں کرے گا۔
➓ عقیقہ میں دونتا کی شرط نہیں لیکن جانور اچھا ہونا چاہیے جیسا کہ لفظ شاۃ کا تقاضا ہے۔
⓫ عقیقہ کے جانور عمر، وزن اور قد کاٹھ میں باہم مماثل ہونے چاہئیں۔ [سنن ابی داؤد: 2834]
⓬ بعض لوگ نیا گھر بناتے ہوئے بنیادوں میں جانور ذبح کر کے خون بہاتے ہیں، بعض نئی اشیاء کے ساتھ خون لگاتے ہیں، یہ سب تو ہم پرستی اور بدعقیدگی کا مظہر ہیں۔
⓭ بدشگونی تو ہم پرستی سب ابوجہل کی سنتیں، طور طریقے اور شیطانی وساوس ہیں اور اس کی کوئی حقیقت نہیں، اسلام کی منشاء یہ ہے کہ حقیقت کی زندگی جیو اور خود کو مضبوط بنا کر توکل علی اللہ مستحکم کرو۔
⓮ سوموار کو سفر نہ کرنا، صبح بلی نظر آ جائے تو سفر ترک کر دینا یا محرم وصفر کو منحوس سمجھتے ہوئے شادی بیاہ کا انعقاد نہ کرنا وغیرہ، اسلام میں ان تمام باتوں کا کوئی تصور نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کا رد کرنے آئے تھے، جو اب بھی ان باتوں پر توجہ کرتا ہے وہ دوبارہ جاہلیت میں زندگی بسر کرنا چاہتا ہے۔
⓯ طوطے والوں یا پیروں کے پاس جا کر غیب کی خبریں یا ہاتھ کی لکیروں پر یقین رکھنا بدعقیدگی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی غیب کے دعویدار کے پاس جائے اور اس سے اپنی قسمت کے ستارے کی گردش کا سوال کرے، اللہ اس کی چالیس دن تک نماز ہی قبول نہیں فرماتے۔ [صحیح مسلم: 2230]
مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کاہن سے غیبی معاملات کے بارے میں پوچھنے گیا اور اس کے کہے کو سچ مانا تو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ دین کے ساتھ کفر کیا۔ [سنن ترمذی: 135]