السنن المأثورة
باب تفسير الفرعة والعتيرة— فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
باب تفسير الفرعة والعتيرة باب: فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " . قَالَ وَسَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " : إِنَّ عِلْمَ الْعَرَبِ كَانَ فِي زَجْرِ الطَّيْرِ وَالْبُوارِحِ وَالْخَطِّ وَالاعْتِيَافِ ، كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا غَدَا مِنْ مَنْزِلِهِ يُرِيدُ أَمْرًا نَظَرَ أَوَّلَ طَائِرٍ يَرَاهُ فَإِنْ سَنَحَ عَنْ يَسَارِهِ وَاجْتَازَ عَنَ يَمِينِهِ قَالَ : هَذِهِ طَيْرُ الأَيَامِنِ فَمَضَى فِي حَاجَتِهِ وَرَأَى أَنَّهُ سَيَسْتَنْجِحُهَا وَإِنْ سَنَحَ عَنْ يَمِينِهِ فَمَرَّ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ : هَذِهِ طَيْرُ الأَشَائِمِ فَرَجَعَ وَقَالَ : هَذِهِ حَاجَةٌ مَشْئُومَةٌ . وَقَالَ الْحُطَيْئَةُ يَمْدَحُ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لا يَزْجُرُ الطَّيْرَ سُنُحًا إِنْ عَرَضْنَ لَهُ وَلا يُفِيضُ عَلَى قِسْمٍ بِأَزْلامِ يَعْنِي أَنَّهُ سَلَكَ طَرِيقَ الإِسْلامِ فِي التَّوَكُّلِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ بَعْضُ الشُّعَرَاءِ يَمْدَحُ نَفْسَهُ : وَلا أَنَا مِمَّنْ يَزْجُرُ الطَّيْرَ هَمَّهُ أَصَاحَ غُرَابٌ أَمْ تَعَرَّضَ ثَعْلَبُ وَكَانَ الْعَرَبِيُّ إِذَا لَمْ يَرَ طَائِرًا سَانِحًا فَرَأَى طَيْرًا فِي وَكْرِهِ حَرَّكَهُ مِنْ وَكْرِهِ لِيُطَيِّرَهُ لَيَنْظُرَهُ أَسَلَكَ طَرِيقَ الأَشَائِمِ أَوْ طَرِيقَ الأَيَامِنِ ؟ فَيُشْبِهُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا " أَيْ لا تُحَرِّكُوهَا فَإِنَّ تَحْرِيكَهَا وَمَا تَعْلَمُونَ بِهِ مِنَ الطِّيَرَةِ لا يَصْنَعُ شَيْئًا وَإِنَّمَا يَصْنَعُ فِيمَا تَتَوَجَّهُونَ لَهُ قَضَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّاور ام کرز کہتی ہیں میں نے آپ ﷺ کو یہ کہتے بھی سنا ہے کہ ”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان پرندوں کو گھونسلے ٹھہرنے دو“ کا مفہوم یہ ہے کہ عرب کا علم پرندے اڑانا ، ان کے دائیں بائیں (جانے کا اندازہ لگانا) لکیریں کھینچنا اور پرندوں کو ڈانٹنا تھا عر بی گھر سے کسی کام کو نکلتا تو پہلے پرندے پر نظر ڈالتا اگر پرندہ بائیں کی بجائے دائیں جانب پروان بھرتا تو عربی کہتا یہ پرندہ دائیں والا ہے تو اپنے کام پر چلا جاتا اور خیال کرتا کہ کامیاب رہے گا، اگر پرندہ دائیں کی بجائے بائیں سے گزر جاتا تو منحوس پرندہ جانتے ہوئے سفر ترک کر دیتا کہ یہ بدشگون حاجت ہے۔ حطیکہ شاعر نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مدح کرتے ہوئے کہا : ” کہ وہ کسی کام جائیں تو پرندوں کو اڑا کر بدشگونی نہیں لیتے اور نہ قسمت کے تیر نکالتے ہیں یا پھینکتے ہیں۔ یعنی اسلامی طریقے کے مطابق اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں جاہلی رسم پرندوں (سے قسمت معلوم کرنا) بدشگونی لینا چھوڑ دی۔ بعض عرب کے شعراء نے اپنی تعریف اس انداز سے کی کہ : ”میں اُن لوگوں میں سے نہیں ہوں جو پرندے اڑاتے ہیں اپنے مقاصد کے لیے (میں مقاصد سے نہیں رکتا) کوّ ابو لے یا لومڑی سامنے آئے۔“ ایک عربی کو اگر راستے میں پرندہ نہ ملے تو جا کر گھونسلے سے اڑاتا تھا تاکہ معلوم کرے راستہ منحوس رہے گا یا پر امن یہ مراد ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی کہ پرندوں کو گھونسلے میں ٹھہر نے دو حرکت نہ دو پرندوں کی حرکت میں کوئی تاثیر واختیار نہیں سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہوتا ہے۔