السنن المأثورة
باب تفسير الفرعة والعتيرة— فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
باب تفسير الفرعة والعتيرة باب: فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 401
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ بِالتَّخْفِيفِ أَسْأَلُهُ عَنْ لُحُومِ الْهَدْيِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا".نوید مجید طیب
ام کرز کہتی ہیں میں حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کے پاس قربانی کے گوشت کا مسئلہ پوچھنے آئی تو میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری عقیقہ ہے کوئی حرج نہیں مذکر ہوں یا مؤنث۔“