حدیث نمبر: 3
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ , وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ ثِيَابَهُ وَشَعْرَهُ " . قَالَ لَنَا الطَّحَاوِيُّ : قَالَ لَنَا الْمُزَنِيُّ : وَهِيَ عِنْدِي : يَكْفِتَ .
نوید مجید طیب

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کریں اور بال و کپڑے نہ سمیٹیں۔

وضاحت:
➊ سجدہ میں سات اعضاء کا زمین پر لگنا ضروری ہے، جبین مع ناک، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے، اور دونوں پاؤں کے اگلے حصے۔
➋ اس حدیث میں سجدہ کا طریقہ بیان ہوا ہے جو لوگ سجدہ میں ناک اٹھائے رکھتے ہیں یا ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر سوار کر لیتے ہیں ان کا سجدہ سجدہ محمدی نہیں۔
➌ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز سیکھنے کی بجائے لغت سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ رکوع وسجود مطلق جھکنے کو کہتے ہیں اور اعتدال اطمینان کو ضروری نہیں سمجھتے ان کا بھی اس حدیث میں رد موجود ہے۔
➍ دورانِ نماز بالوں اور کپڑوں کو سنوارنا بھی درست نہیں ہے۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی الہی کے اوامر و نواہی کے پابند تھے، اور یہی آپ کے لیے حکم ربانی تھا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ﴾ [الانعام: 106]
"آپ اس کی پیروی کریں جو آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے وحی کی گئی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے کنارا کر۔"
اسی طرح ایک مقام پر فرمایا: ﴿فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ إِنَّكَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [الزخرف: 43]
"پس آپ اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے، یقیناً آپ سیدھے راستے پر ہیں۔"
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 3
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب السجود على سبعة اعظم، رقم: 809، صحیح مسلم، الصلاة، باب اعضاء السجود والنهى عن كف الشعر، رقم: 490۔