حدیث نمبر: 397
سَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ عَلَيْهِ تَمْرٌ وَشَعِيرٌ مِنْ بَعْضِ الْقُرَى وَأَنَّ أُسَيْدَ بْنَ الْحُضَيْرِ قَالَ لَهُ أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ بَنِي ظُفُرَ : اذْكُرْ حَاجَتَنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّ أُسَيْدَ بْنَ الْحُضَيْرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مَعَهُ قَوْمًا وَأَنَّهُ حَنَا عَلَيْهِ فَذَكَرَ لَهُ حَاجَةَ أَهْلِ بَيْتَيْنِ مِنْ بَنِي ظُفُرَ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ وَسْقٌ مِنْ تَمْرٍ وَشَطْرٌ مِنْ شَعِيرٍ " ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا . قَالَ يَحْيَى : فَزَعَمَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ فَإِنَّكُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ وَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فِي الأَمْرِ وَالْقَسْمِ فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي " .
نوید مجید طیب

محمد بن ابراہیم بن حارث تمیمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بعض بستیوں سے کھجور اور جو آئے تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو بنی ظفر کے دو گھروں نے کہا ہماری ضروریات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرنا، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کچھ لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے تھے، اسید رضی اللہ عنہ قریب جا کر جھکے بنی ظفر کی حاجت ذکر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر گھر کو ایک وسق کھجور اور ایک وسق جو دیا جاتا ہے “ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزاء دے یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محمد بن ابراہیم بن حارث رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ” اے انصار ! تمہیں اللہ جزائے خیر دے تم صابر لوگ ہو میرے بعد تم دیکھو گے کہ معاملات و تقسیم میں تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی مجھ سے ملاقات تک صبر سے کام لینا ۔“

وضاحت:
مذکورہ روایت کا آخری حصہ صحیح ثابت ہے، چنانچہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: «انكم سترون بعدى اثرة فاصبروا حتى تلقوني و موعدكم الحوض»
میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو فوقیت دی جائے گی لہذا تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو اور میری تم سے ملاقات حوض پر ہوگی۔ [صحيح بخاري: 3793]
یہ روایت سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [صحيح بخاري: 3792]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب أيام التشريق / حدیث: 397
تخریج حدیث سنده مرسل لان التيمى لم يشهد تلك الواقعة و انّه تابعى