حدیث نمبر: 396
سَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرُوا أَبْنَاءَهُمْ ، فَقَالُوا : أَبْنَاؤُنَا خَيْرٌ مِنَّا وَلِدُوا فِي الإِسْلامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ سَاعَةً قَطُّ ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَكُنْ لِيَبْعَثَنِي إِلا فِي خَيْرِ أُمَّتِي نَحْنُ خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِنَا وَأَبْنَاؤُنَا خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَبْنَاءُ أَبْنَائِنَا خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِهِمْ " .نوید مجید طیب
ابو قلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ابناء کا تذکرہ کیا تو کہنے لگے ہمارے بیٹے ہم سے بہتر ہیں اسلام میں پیدا ہوئے انہوں نے بالکل اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے مجھے بہترین امت کی طرف مبعوث فرمایا ہم اپنے بیٹوں سے بہتر ہیں، اور ہمارے بیٹے ہمارے پوتوں سے بہتر ہیں اور ہمارے پوتے اپنے بیٹوں سے بہتر ہیں۔“
وضاحت:
➊ زمانہ جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوگا بہتری اسی میں ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین رحمہ اللہ سے افضل ہیں اور تابعین رحمہ اللہ تبع تابعین رحمہ اللہ سے افضل اور بہتر ہیں۔
➋ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس وقت دین کا دفاع کیا، جان، مال و زر پیش کیا جب سارا کفر کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا، اُن کے مقام کو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اُن کا ایک مد خرچ کرنا احد پہاڑ برابر سونا خرچ کر دینے سے افضل ہے۔ ان کے ایمان کی گارنٹی اللہ رب العزت نے دی، ان کی عالی صفات ﴿هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾، ﴿هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾، ﴿هُمُ الرَّاشِدُونَ﴾، ﴿هُمُ الْفَائِزُونَ﴾، ﴿هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا﴾، ﴿هُمُ الصَّادِقُونَ﴾، ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ جس کے دلوں کو تقویٰ سے پرکھا گیا، ﴿لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ﴾ کی خوشخبریاں پانے والے، ﴿أُولَئِكَ حِزْبُ اللهِ﴾ کا اعزاز ماتھے پر سجانے والے وہ دین کے رواۃ ہیں، ان کے ذریعے قرآن وسنت ہم تک پہنچے، ان پر جرح کرنا قرآن وسنت پر جرح کرنا ہے۔
➌ منافقین کے لیے جب تلوار کے خوف سے اسلام کی مخالفت کرنا ممکن نہ رہا تو انہوں نے رواۃ اسلام پر دشنام طرازی کی تاکہ قرآن وسنت کو باطل قرار دے سکیں، اس لیے کبار آئمہ نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف زبان دراز کرنے والے زندیق اور جرح کے زیادہ حقدار ہیں۔ [الکفایۃ للخطیب البغدادی: 97]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «اذا رايت رجلا يذكر احدا من الصحابة بسوء فاتهمه على الاسلام» [البدایۃ والنہایۃ: 142/8]
جب تو کسی شخص کو کسی صحابی رضی اللہ عنہ کا برا تذکرہ کرتے دیکھے تو اس کے مسلمان ہونے پر یقین نہ کر۔
➋ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس وقت دین کا دفاع کیا، جان، مال و زر پیش کیا جب سارا کفر کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا، اُن کے مقام کو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اُن کا ایک مد خرچ کرنا احد پہاڑ برابر سونا خرچ کر دینے سے افضل ہے۔ ان کے ایمان کی گارنٹی اللہ رب العزت نے دی، ان کی عالی صفات ﴿هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾، ﴿هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾، ﴿هُمُ الرَّاشِدُونَ﴾، ﴿هُمُ الْفَائِزُونَ﴾، ﴿هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا﴾، ﴿هُمُ الصَّادِقُونَ﴾، ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ جس کے دلوں کو تقویٰ سے پرکھا گیا، ﴿لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ﴾ کی خوشخبریاں پانے والے، ﴿أُولَئِكَ حِزْبُ اللهِ﴾ کا اعزاز ماتھے پر سجانے والے وہ دین کے رواۃ ہیں، ان کے ذریعے قرآن وسنت ہم تک پہنچے، ان پر جرح کرنا قرآن وسنت پر جرح کرنا ہے۔
➌ منافقین کے لیے جب تلوار کے خوف سے اسلام کی مخالفت کرنا ممکن نہ رہا تو انہوں نے رواۃ اسلام پر دشنام طرازی کی تاکہ قرآن وسنت کو باطل قرار دے سکیں، اس لیے کبار آئمہ نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف زبان دراز کرنے والے زندیق اور جرح کے زیادہ حقدار ہیں۔ [الکفایۃ للخطیب البغدادی: 97]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «اذا رايت رجلا يذكر احدا من الصحابة بسوء فاتهمه على الاسلام» [البدایۃ والنہایۃ: 142/8]
جب تو کسی شخص کو کسی صحابی رضی اللہ عنہ کا برا تذکرہ کرتے دیکھے تو اس کے مسلمان ہونے پر یقین نہ کر۔