حدیث نمبر: 398
أَخْبَرَنِي مَنْ ، سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ ، مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْفَرَعَةِ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْفَرَعَةَ حَقٌّ وَأَنْ تَغْذُوَهُ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ لَبُونٍ زُخْرُبًّا فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُكْفَأَ إِنَاؤُكَ وَتُولَهُ نَاقَتُكَ وَتَأْكُلَهُ ، يَتَلَصَّقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ " . قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَقَوْلُهُ " الْفَرَعَةُ حَقٌّ " يَعْنِي أَنَّهَا لَيْسَتْ بِبَاطِلٍ وَلَكِنَّهُ كَلامٌ عَرَبِيٌّ يَخْرُجُ عَلَى جَوَّابِ السَّائِلِ.
نوید مجید طیب

بنی ضمرہ کے ایک آدمی سے روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرعہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”فرعہ بھی حق ہے اور یہ کہ اس نوزائیدہ جانور کو چھوڑو حتی کہ جوان تنومند ہو جائے تو کسی بیوہ کو دے دو یا جہاد فی سبیل اللہ عز وجل کے لیے سواری مہیا کر دو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم (اسے ذبح کر کے دودھ کا) برتن اوندھا کر ڈالو اور اونٹنی کو بے چین کر ڈالو اور پھر اس حال میں اس کا گوشت کھاؤ کہ گوشت بالوں سے ہی چمٹا ہو۔“

وضاحت:
➊ بچہ پیدا ہوتے ہی ذبح کر ڈالو گے تو اونٹنی بے چین ہو کر دودھ کم کر دے گی، برتن اوندھا کرنا پڑے گا، کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں ملے گا، چمڑے سے چمٹا گوشت ہوگا۔
➋ فرعہ حق کا مطلب ہے کہ شکرانے کے طور پر اللہ کے لیے ذبح کرنا اچھی بات ہے لیکن بہتر ہے اسے جوان ہونے دو پھر اللہ کے لیے صدقہ کرو تاکہ کسی کا فائدہ بھی ہو۔
➌ مزید مسائل کی توضیح کے لیے دیکھئے شرح حدیث نمبر 385۔
➤ تشریح امام شافعی رحمہ اللہ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان اشیاء سے اہل جاہلیت اپنے مالوں میں برکت تلاش کرتے تھے، ایک جاہلی آدمی اونٹنی یا بکری کا بچہ دودھ پینے سے پہلے ہی اس امید پر ذبح کر دیتا کہ اس کے بعد بہت برکت ہو گی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے اس کے متعلق سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " فرع پہلا بچہ اگر چاہو تو ذبح کر سکتے ہو۔" انہوں نے اس غرض سے پوچھا تھا کہ جاہلیت میں ایسا کرتے تھے اسلام میں حرام نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا بچہ ذبح کرنا حرام تو نہیں (اس سے بہتر حکم دیا) یعنی اختیاری حکم بہتری والا دیا کہ اسے دودھ پلاؤ (جوان کرو) پھر جہاد کے لیے استعمال میں لاؤ۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 398
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الأضاحي، باب في العقيقة، رقم : 2842 وقال الالباني: حسن، سنن نسائی، باب الافرع ولا عتيرة 4230