حدیث نمبر: 388
وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُؤَمَّلٍ الْمَخْزُومِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَمْ يَزَلْ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسْتَقِيمًا حَتَّى حَدَّثَ فِيهِمُ الْمُوَلَّدُونَ أَبْنَاءُ سَبَايَا الأُمَمِ فَقَالُوا فِيهِمْ بِالرَّأْيِ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا .
نوید مجید طیب

عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا معاملہ درست رہا حتی کہ اُن میں دوسری قوموں کی لونڈیوں کی اولاد پیدا ہوگئی حتیٰ کہ (جب دین کی بھاگ ڈور اس نسل کے ہاتھ آئی) انہوں نے اپنی رائے سے مسائل بنائے وہ خود بھی گمراہ ہو گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔

وضاحت:
➊ یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ دین اسلام کا معاملہ بھی جب تک مدینہ میں رہا بدعات سے پاک رہا، جوں ہی کوفہ اور ایران کی مجوسی لونڈیوں کی اولاد دین کی مسانید پر براجمان ہوئی رائے اور قیاس کی بنا پر کتاب و سنت کے مسائل کو رد کرنا شروع کیا، نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ ایمانیات سے لے کر معاملات تک رائے زنی ہوئی۔ اللہ رب العزت ہمیں کتاب و سنت کا پابند رکھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب أيام التشريق / حدیث: 388
تخریج حدیث سنن ابن ماجه المقدمة، باب اجتناب الرأى والقياس، رقم: 56 وقال الالبانی: ضعیف، سنن دارمی، المقدمة، باب التورع عن الجواب ....... الخ، رقم: 122۔