حدیث نمبر: 389
وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ : مَرَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَجَرَةٍ يُعَلِّقُ بِهَا الْمُشْرِكُونَ أَسْلِحَتَهُمْ يُقَالُ لَهَا : ذَاتُ أَنْوَاطٍ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ : اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمُ آلِهَةٌ " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ ایک درخت کے پاس سے گزرے جسے ذات انواط کہا جاتا تھا مشرکین تبرک کے لیے اپنا اسلحہ اس کے ساتھ لٹکاتے تھے تو ہم نے عرض کیا ہمارے لیے بھی کوئی ذات انواط مقرر کر دیں جیسے مشرکین کے لیے ذات انواط ہے تو رسول اللہ ”صلی اللہ علیہ وسلم“ نے فرمایا: ”تم نے تو بنی اسرائیلوں کی طرح کہہ دیا جیسے انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا : ہمارے لیے بھی کوئی الٰہ بنا دے جس طرح ان کے الٰہ ہیں۔“

وضاحت:
➊ یہ واقعہ فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین کے سفر میں پیش آیا اور یہ بات نو مسلموں نے کی تھی۔
➋ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ درختوں سے تبرک حاصل کرنا، ان پر جھنڈیاں لگانا، سبز کپڑے لٹکانا مشرکین کا پرانا عمل ہے اور ایسی تمام علامات شرک کے اڈوں پر آج بھی موجود ہیں۔
➌ سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کو دو دن ہوئے تھے مسلمان ہوئے اس لیے انہوں نے سمجھا اسلام میں بھی یہ کام جائز ہوں گے جبکہ ہمارے ہاں ساٹھ ستر سالہ مسلمان بھی ان خرافات کو دین سمجھتے ہیں۔
➍ سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ نے سوال کر کے رہتی دنیا تک مشرک اور مومن کی پہچان کروا دی۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال دے کر سمجھایا کہ درخت سے تبرک حاصل کرنا یا بچھڑا پوجنے میں کوئی فرق نہیں دونوں غیر اللہ کے پوجاری اور مشرک ہیں۔ جو چاہتا ہے اسے مشرک نہ کہا جائے اسے چاہیے شرک ترک کر دے تاکہ اسے کوئی مشرک نہ کہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب أيام التشريق / حدیث: 389
تخریج حدیث سنن ترمذى، الفتن، باب ماجاء لتركبن سنن من كان قبلكم، رقم: 2180 وقال حسن صحيح، وقال الالباني: صحيح، مسند الحميدي، رقم: 848۔