حدیث نمبر: 386
وَسَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنِ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّا كُنَّا نَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا فَوْقَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ حَتَّى يَسَعَكُمْ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا أَلا إِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " .
نوید مجید طیب

سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے تمہیں قربانی کے گوشت سے تین دن سے زیادہ استفادہ کرنے سے روکا تھا حتی کہ تمہیں مالی وسعت حاصل ہو گئی۔ اب کھاؤ ذخیرہ کرو خبردار یہ ایام کھانے پینے کے ہیں۔“

وضاحت:
➊ ابتدائی اسلام میں قربانی کرنے والے کم اور فقیر زیادہ تھے اس لیے وقتی طور پر تین دن سے زیادہ ذخیرہ سے منع کیا گیا تاکہ لوگ صدقہ کریں۔
➋ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حاکم وقت خطرات کے پیش نظر وقتی ایسی پابندی لگا سکتا ہے جس سے اسلام کی اصل روح پر اثر نہ پڑے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں دس سال قیام فرمایا، اس دوران آپ بلا ناغہ ہر سال قربانی دیتے رہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی میں ایک مرتبہ بھی صاحب نصاب نہیں ہوئے کہ آپ نے زکاۃ دی ہو۔ لہذا قربانی کے لیے آدمی کے صاحب نصاب ہونے کی شرط عائد کرنا باطل ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب أيام التشريق / حدیث: 386
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الاضاحی، باب في حبس لحوم الأضاحي، رقم: 2813، وقال الالباني: صحيح سنن ابن ماجه الاضاحی، باب ادخار لحوم الاضاحی، رقم: 3160۔