السنن المأثورة
باب ما جاء في صدقة الفطر— صدقۃ الفطر کا بیان
باب ما جاء في صدقة الفطر باب: صدقۃ الفطر کا بیان
حدیث نمبر: 385
عَنِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَأَطْعَمْتَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ لَكَ " .نوید مجید طیب
سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بندے نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم زمانہ جاہلیت میں فرع (جانور کا پہلا بچہ) ذبح کیا کرتے تھے آپ ﷺ کا کیا حکم ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر قسم کے سائمة (چرنے والے جانوروں) میں سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہیے مگر اس طرح کہ اسے ماں دودھ پلائے یہاں تک کے سواری کے قابل ہو جائے تو (جوان ہو جائے) پھر ذبح کر اور تو اسے چارا کھلا یہ تیرے لیے بہتر ہے۔“
وضاحت:
➊ نیکی کو کسی ماہ میں خاص کر لینا یا ایسی قید لگا دینا جو اللہ تعالیٰ نے نہیں لگائی، دین میں اپنے اختیار استعمال کرنے کے مترادف ہے جو کہ بدعت اور کبیرہ گناہ ہے۔ اسی طرح اذکار اپنی طرف سے خاص کر لینا اور اس طرح کی قیود لگانا ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جائز نہیں، اگر اذکار شریعت کے ہیں تو طریقہ بھی شریعت کا ہی چلے گا اپنا نہیں۔
➋ فرع: اونٹنی کا پہلا بچہ، زمانہ جاہلیت میں لوگ بتوں کے نام ذبح کرتے، اس کا چمڑا درخت پر ڈالتے اور گوشت کھاتے تھے۔ [سنن ابی داؤد: 2833]
جب اسلام آیا تو وہم پرستی کا خاتمہ ہوا۔ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے منی کے مقام پر پوچھا کہ اسلام فرع کے بارے میں کیا کہتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی کی کہ اللہ کے نام پر ذبح کیا جا سکتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے جوان ہونے دیا کرو۔ اس بچے کو ذبح کر کے نہ تمہارا پیٹ بھرے گا اور نہ غریب مسکین کا، اونٹنی غم کے باعث دودھ کم کر دے گی اور بچے کی محبت میں اونٹنی پریشان ہوگی۔ [سنن ابی داؤد: 2842]
لہذا جانور جوان ہونے دیا کرو جب جوان ہو جائے تو مرضی ہے، پھر صدقہ کرو، جہاد کے لیے دو، کسی بیوہ کو دو یا ذبح کر کے کھانا کھلاؤ، یہ بہتر کام ہے۔
➌ عتیرہ:
لوگ زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب کے پہلے دس دنوں میں اپنے اپنے اعتقاد کے مطابق جانور ذبح کرتے تھے، تو اسلام نے ماہ رجب کی قید سے بھی انسانیت کو آزاد کیا۔
➍ دنوں کی تخصیص بغرض عبادت و شعائر یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے، انسان اپنی طرف سے متعین نہیں کر سکتا جیسے بدعتیوں نے عید میلاد النبی اور بے شمار اذکار و عبادات خود سے مخصوص کر لیے ہیں۔
➎ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے حواری اور اصحاب تھے جو اپنے نبی کی سنت پر عمل کرتے تھے اور حکم کو من و عن تسلیم کرتے تھے، ان کے بعد ایسے نالائق آئے جو دعویٰ کچھ کرتے تھے اور عمل کچھ کرتے تھے یعنی کہتے کچھ تھے اور کرتے کچھ تھے اور ایسی عبادات پر عمل پیرا تھے جن کا حکم نہ اللہ نے دیا نہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ تو جو ایسے لوگوں سے اپنے ہاتھ سے جہاد کرے، قلم اٹھائے یا تلوار یا جو اُن کے خلاف زبان سے جہاد کرے وہ مومن ہے اور جو دل سے ان کے خلاف جہاد کرے وہ مومن ہے لیکن اس درجے کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔ [صحیح مسلم: 50]
➏ مزید مسائل کی توضیح کے لیے دیکھیے حدیث نمبر: 398، 399۔
➋ فرع: اونٹنی کا پہلا بچہ، زمانہ جاہلیت میں لوگ بتوں کے نام ذبح کرتے، اس کا چمڑا درخت پر ڈالتے اور گوشت کھاتے تھے۔ [سنن ابی داؤد: 2833]
جب اسلام آیا تو وہم پرستی کا خاتمہ ہوا۔ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے منی کے مقام پر پوچھا کہ اسلام فرع کے بارے میں کیا کہتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی کی کہ اللہ کے نام پر ذبح کیا جا سکتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے جوان ہونے دیا کرو۔ اس بچے کو ذبح کر کے نہ تمہارا پیٹ بھرے گا اور نہ غریب مسکین کا، اونٹنی غم کے باعث دودھ کم کر دے گی اور بچے کی محبت میں اونٹنی پریشان ہوگی۔ [سنن ابی داؤد: 2842]
لہذا جانور جوان ہونے دیا کرو جب جوان ہو جائے تو مرضی ہے، پھر صدقہ کرو، جہاد کے لیے دو، کسی بیوہ کو دو یا ذبح کر کے کھانا کھلاؤ، یہ بہتر کام ہے۔
➌ عتیرہ:
لوگ زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب کے پہلے دس دنوں میں اپنے اپنے اعتقاد کے مطابق جانور ذبح کرتے تھے، تو اسلام نے ماہ رجب کی قید سے بھی انسانیت کو آزاد کیا۔
➍ دنوں کی تخصیص بغرض عبادت و شعائر یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے، انسان اپنی طرف سے متعین نہیں کر سکتا جیسے بدعتیوں نے عید میلاد النبی اور بے شمار اذکار و عبادات خود سے مخصوص کر لیے ہیں۔
➎ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے حواری اور اصحاب تھے جو اپنے نبی کی سنت پر عمل کرتے تھے اور حکم کو من و عن تسلیم کرتے تھے، ان کے بعد ایسے نالائق آئے جو دعویٰ کچھ کرتے تھے اور عمل کچھ کرتے تھے یعنی کہتے کچھ تھے اور کرتے کچھ تھے اور ایسی عبادات پر عمل پیرا تھے جن کا حکم نہ اللہ نے دیا نہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ تو جو ایسے لوگوں سے اپنے ہاتھ سے جہاد کرے، قلم اٹھائے یا تلوار یا جو اُن کے خلاف زبان سے جہاد کرے وہ مومن ہے اور جو دل سے ان کے خلاف جہاد کرے وہ مومن ہے لیکن اس درجے کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔ [صحیح مسلم: 50]
➏ مزید مسائل کی توضیح کے لیے دیکھیے حدیث نمبر: 398، 399۔