السنن المأثورة
باب ما جاء في صدقة الفطر— صدقۃ الفطر کا بیان
باب ما جاء في صدقة الفطر باب: صدقۃ الفطر کا بیان
حدیث نمبر: 384
وَسَمِعْتُ عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي رَجَبَ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : " وَبَرُّوا اللَّهَ " أَوْ " أَوْثِرُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " الشَّكُّ مِنَ الْمُزَنِيِّ .نوید مجید طیب
سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم رجب (کے پہلے دس دنوں) میں جانور ذبح کرتے ہیں اس کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (رجب کے ساتھ کیوں خاص کیا ہوا ہے) ”اللہ تعالیٰ (کی رضا) کے لیے ذبح کرو جو بھی مہینہ ہو، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نیکی کرو کھانا کھلاؤ۔“