السنن المأثورة
باب ما جاء في صدقة الفطر— صدقۃ الفطر کا بیان
باب ما جاء في صدقة الفطر باب: صدقۃ الفطر کا بیان
حدیث نمبر: 383
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى انْجَلَتْ فَلَمَّا انْجَلَتْ ، قَالَ : " إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَكْسِفَانِ إِلا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا " .نوید مجید طیب
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عہد نبوی میں سورج گرہن لگ گیا تو رسول اللہ ﷺ گھبراہٹ سے چادر گھسیٹتے ہوئے آئے گرہن صاف ہونے تک نماز جاری رکھی، جب مطلع صاف ہو گیا فرمایا : ”لوگوں کا خیال ہے کہ سورج و چاند کا گرہن کسی بڑے کی موت کے باعث ہوتا ہے۔ (وہ بھی اظہار غم کرتے ہیں) حالانکہ ایسا بالکل نہیں شمس و قمر کو گرہن کسی کی موت و زندگی سے نہیں لگتا (یہ اللہ کی نشانیاں ہیں) جب گرہن دیکھو نماز پڑھو۔“
وضاحت:
➊ معلوم ہوا حادثات کے وقت انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور توبہ تائب ہونا چاہیے۔
➋ نماز کسوف کی تفصیل کے لیے دیکھیے شرح حدیث نمبر 52۔
➋ نماز کسوف کی تفصیل کے لیے دیکھیے شرح حدیث نمبر 52۔