حدیث نمبر: 380
عَنْ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، " كَانَ يُفْتِي الرَّجُلَ إِذَا رَعَفَ فِي صَلاتِهِ أَوْ ذَرَعَهُ قَيْءٌ أَوْ وَجَدَ مَذْيًا أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ يَرْجِعَ فَيَبْنِيَ عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ صَلاتِهِ " . قَالَ سَالِمٌ : وَكَانَ مِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ يَقُولُ : يَبْتَدِئُ صَلاتَهُ .
نوید مجید طیب

سالم بن عبد اللہ کہتے ہیں سیدنا عبد اللہ بن عمر فتویٰ دیتے تھے کہ ”نماز میں قے آ جائے یا مذی نکل جائے تو آدمی واپس پلٹ جائے وضو کر کے آئے نماز جہاں سے چھوڑی تھی وہاں سے شروع کر لے۔“ سالم کہتے ہیں کہ مسور بن محزمہ کہتے ہیں: ”آدمی نئے سرے سے نماز پڑھے گا۔“

وضاحت:
➊ صحیح اور راجح بات یہی ہے کہ قے سے وضو نہیں ٹوٹتا البتہ مذی سے ٹوٹ جاتا ہے۔ [صحیح بخاری: 132]
➋ نماز نئے سرے سے پڑھنی پڑے گی۔ یہی فتویٰ درست ہے۔
➌ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من أصابه قيء أو رعاف أو قلس أو مذي فلينصرف فليتوضأ ثم ليبن على صلاته وهو فى ذلك لا يتكلم»
جس شخص کو نماز میں قے آ جائے یا نکسیر پھوٹ پڑے یا پیٹ سے کوئی چیز منہ میں آ جائے یا مذی نکل آئے تو اسے چاہیے کہ نماز چھوڑ کر چلا جائے، نیا وضو کرے اور پھر اپنی نماز وہیں سے شروع کرے جہاں سے اس نے چھوڑی بشرطیکہ اس دوران وہ کلام نہ کرے۔
مندرجہ بالا روایت ضعیف ہے۔ [سنن ابن ماجہ: 1221]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صدقة الفطر / حدیث: 380
تخریج حدیث مؤطا امام مالك، الطهارة، باب ماجاء في الرعاف، رقم : 46، مصنف عبدالرزاق : 145/1، رقم : 553 ، مصنف ابن ابي شيبة : 138/1 ، سنن الكبرى للبيهقي : 141/1 قال ابن حجر سنده صحیح ، فتح البارى : 282/1۔