السنن المأثورة
باب ما جاء في صدقة الفطر— صدقۃ الفطر کا بیان
باب ما جاء في صدقة الفطر باب: صدقۃ الفطر کا بیان
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رِجَالا مِنْ قُرَيْشٍ دَخَلُوا عَلَى أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ فَقَالَ : أَلا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوا : بَلَى فَحَدَّثَنَا عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَرْسَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْكَ تَكْرِيمًا لَكَ وَتَشْرِيفًا لَكَ وَخَاصَّةً لَكَ أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ يَقُولُ : كَيْفَ تَجِدُكَ ، قَالَ : " أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا " ثُمَّ جَاءَهُ الْيَوْمَ التَّالِي فَقَالَ ذَلِكَ لَهُ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا رَدَّ أَوَّلَ يَوْمٍ ، ثُمَّ جَاءَهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ لَهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا رَدَّ وَجَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ يُقَالُ لَهُ : إِسْمَاعِيلُ ، عَلَى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ ، كُلُّ مَلَكٍ مِنْهُمْ عَلَى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ ، فَاسْتَأْذَنَ فَسَأَلَ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ : هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ مَا اسْتَأْذَنَ عَلَى آدَمِيٍّ قَبْلَكَ وَلا يَسْتَأْذِنُ عَلَى آدَمِيٍّ بَعْدَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْذَنْ لَهُ " فَأَذِنَ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ، فَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْبِضَ رُوحَكَ قَبَضْتُهُ ، وَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَتْرُكَهُ تَرَكْتُهُ ، قَالَ : " أَوَتَفْعَلُ يَا مَلَكُ الْمَوْتِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأُمِرْتُ أَنْ أُطِيعَكَ ، قَالَ : فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ فَقَالَ جِبْرِيلُ : يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اشْتَاقَ إِلَى لِقَائِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَلَكِ الْمَوْتِ : " امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ " ، فَقَبَضَ رُوحَهُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ سَمِعُوا صَوْتًا مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ : سَلامٌ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ إِنَّ فِيَ اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ وَدَرَكًا مِنْ كُلِّ مَا فَاتَ فَبِاللَّهِ فَثِقُوا وَإِيَّاهُ فَارْجُوا فَإِنَّمَا الْمُصَابُ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ . فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلامُ : تَدْرُونَ مَنْ هَذَا ؟ هَذَا الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلامُ .جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ قریشی اُن کے والد علی بن حسین کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کچھ بیان نہ کروں قریشیوں نے کہا کیوں نہیں ضرور ہمیں ابو القاسم سے بیان کریں تو فرمایا جب رسول اللہ ﷺ بیمار تھے تو اُن کے پاس جبریل علیہ السلام آئے کہنے لگے ”اے محمد ! مجھے اللہ تعالیٰ نے آپ کی حوصلہ افزائی اور عزت بخشنے کے لیے بھیجا ہے جو کہ آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہے کہ آپ سے پوچھوں حالانکہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ علم ہے اللہ تعالیٰ پوچھ رہے ہیں آپ کی طبیعت کیسی ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اے جبرائیل علیہ السلام حالت غمزدہ اور تکلیف ہے (بیماری اور زہر کے اثر کی وجہ سے جو خیبر میں یہودن نے دیا تھا)۔“ پھر دوسرے دن جبریل علیہ السلام آئے پھر حال پوچھا تو آپ ﷺ نے وہی جواب دیا پھر تیسرے دن آئے تو پھر آپ ﷺ نے وہی جواب دیا اس دن جبریل علیہ السلام کے ہمراہ ایک اسماعیل نامی فرشتہ بھی آیا جو ایک لاکھ فرشتہ ساتھ لایا ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک لاکھ فرشتہ تھا اس نے بھی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ سے اس نے بھی حال احوال پوچھا پھر جبریل علیہ السلام کہنے لگے یہ ملک الموت بھی آگئے ہیں آپ سے روح قبض کرنے کے بارے میں اجازت طلب کر رہے ہیں حالانکہ آپ ﷺ سے پہلے کسی سے کبھی اجازت طلب نہیں کی اور نہ آپ کے بعد کسی آدمی سے اجازت طلب کریں گے تو آپ ﷺ نے اندر آنے کی اجازت دی اُس نے بھی سلام کیا پھر فرمایا : ”اے محمد ﷺ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ اگر اجازت ہوئی تو روح قبض کر لینا اور اگر آپ ﷺ کا حکم ہو چھوڑ دو تو چھوڑ آنا“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اے موت کے فرشتے کیا تو میری بات سنے گا ؟“ فرشتے نے کہا: ”ہاں مجھے یہی حکم ہے کہ آپ کی اطاعت کروں“ تو رسول اللہ ﷺ نے جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا جبریل علیہ السلام کہنے لگے ”اللہ تعالیٰ آپ کی ملاقات کے مشتاق ہیں“ تو نبی اکرم ﷺ نے ملک الموت سے فرمایا: ”حکم کی پابندی کرو۔ میری روح قبض کرو“ جب رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے تعزیت کی آواز صحابہ نے گھر کے کونے سے سنی کہ ”اے اہل بیت! تم پر سلامتی ہو اللہ کی رحمت، برکت ہو، اللہ کے لیے لواحقین سے تعزیت ہے اللہ جانے والے کا حلیف بنائے ہر کمی کو پورا کرے، اللہ پر بھروسہ رکھو اس پر امید رکھو مصیبت پر صبر کرنے سے اجر ملتا ہے۔“ تو سیدنا علی نے فرمایا: ”جانتے ہو یہ کون تعزیت کر رہا ہے یہ خضر علیہ السلام ہیں۔“
➋ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلى الله عليه وسلم کو دنیا میں رہنے اور آخرت کو اختیار کرنے کا اختیار دیا تھا جیسا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے آخری خطبہ میں ارشاد فرمایا: «عبد خيره الله بين أن يؤتيه زهرة الدنيا وبين ما عنده فاختار ما عنده» [صحیح بخاری: 3940]
اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ ہے جس کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ چاہے دنیا کی دولت لے لے اور چاہے اللہ تعالیٰ کے ہاں کو اختیار کرے، اس نے اللہ کے ہاں کو پسند کیا۔
➌ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے اپنی آخری بیماری میں، جس کے بعد آپ کی وفات ہو گئی، فرمایا: «اللهم فى الرفيق الأعلى»
اے اللہ! مجھے میرے رفقاء اعلیٰ انبیاء و صدیقین میں پہنچا دے۔ [صحیح بخاری: 4437]
➍ ملک الموت نے موسیٰ علیہ السلام سے بھی ان کی روح مبارک قبض کرنے سے قبل اجازت چاہی تھی۔ [صحیح بخاری: 1339]