حدیث نمبر: 381
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسٍ ، قَالَ : عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْبَدْرِيَّ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَفَّ النَّاسِ صَلاةً عَلَى النَّاسِ وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلاةً لِنَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
نوید مجید طیب

نافع بن سرجس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم ابو واقد بدری کی عیادت کے لیے گئے اسی بیماری میں جس میں وہ وفات پا گئے تھے تو میں نے اُن کو فرماتے ہوئے سنا: ”رسول اللہ ﷺ عام لوگوں کو ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور خود اکیلے بہت لمبی نماز پڑھتے تھے۔“

وضاحت:
➊ ہماری حالت اس کے برعکس ہے کہ لوگوں کو لمبی اور خود ہلکی نماز پڑھاتے ہیں، درستگی لازم ہے۔
➋ صحابہ رضی اللہ عنہم مرض الموت میں بھی احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بیان کرتے تھے۔
➌ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے میوے چنے میں مصروف رہتا ہے۔ [صحیح مسلم: 2568]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صدقة الفطر / حدیث: 381
تخریج حدیث مسند احمد : 240/36، رقم : 21908 وقال الارنوؤط: صحيح لغيره وهذا اسناد حسن۔