السنن المأثورة
باب ما جاء في صدقة الفطر— صدقۃ الفطر کا بیان
باب ما جاء في صدقة الفطر باب: صدقۃ الفطر کا بیان
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ حَدَّثَاهُ ، قَالا : جِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَقْسِمُ عَلَى النَّاسِ الصَّدَقَةَ فَزَاحَمْنَا عَلَيْهِ حَتَّى خَلُصْنَا إِلَيْهِ ، فَسَأَلْنَاهُ مِنْهَا ، قَالا : فَرَفَعَ الْبَصَرَ وَخَفَضَ فَرَآنَا رَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ ، فَقَالَ : " إِنْ شِئْتُمَا وَلا حَقَّ أَوْ لا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ " .عبداللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے دو آدمیوں نے بتایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حجتہ الوداع کے موقع پر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقات تقسیم کر رہے تھے بڑے رش سے گزر کر آپ تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صدقہ مانگا دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر سے پاؤں تک ہمیں دیکھا کہ ہم دونوں صحت مند اور توانا ہیں تو فرمایا: ”اگر تم چاہو تو دے دیتا ہوں۔ (یعنی ضد کرو تو) لیکن اس صدقہ میں کسی مالدار اور طاقتور کما لینے والے کا کوئی حق اور حصہ نہیں۔“
➋ اس سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہٹے کٹے بھکاریوں کو صدقہ و خیرات بالکل نہیں دینا چاہیے، اس سے اُن کا حوصلہ بڑھتا ہے اور کسی ہٹے کٹے کو صدقات دے دے کر نکھٹو بھی نہیں بنانا چاہیے۔
➌ صدقات و زکاۃ یہ غریب لاچار افراد کا حق ہے، غیر حقدار کا اسے وصول کرنا حرام ہے اور غیر حقدار کو دینا رب تعالیٰ کی امانت میں خیانت کرنا ہے۔
➍ مصارف زکاۃ کی تعداد آٹھ ہے ان کی تفصیلات کے لیے دیکھیے [التوبہ: 60]
➎ مالدار شخص کے علاوہ کمائی کی استطاعت و طاقت رکھنے والا شخص بھی زکاۃ و صدقات کا مستحق نہیں ہے۔