السنن المأثورة
باب ما جاء في صدقة الفطر— صدقۃ الفطر کا بیان
باب ما جاء في صدقة الفطر باب: صدقۃ الفطر کا بیان
حدیث نمبر: 375
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكَ بْنُ أَعْيَنَ ، سَمِعَا أَبَا وَائِلٍ ، يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ رَجُلٍ لا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلا جُعِلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُطَوَّقَ بِهِ عَلَى عُنُقِهِ " ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180 .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ”جو آدمی اپنے مال کی زکاۃ نہیں دیتا اللہ تعالیٰ اس پر بروز قیامت گنجا سانپ مقرر کرے گا وہ بھاگے گا سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا حتی کہ اس کی گردن میں سانپ کا طوق ڈالے گا“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھی : ”بروز قیامت اُن کی کنجوسی ان کے گلے کا طوق بنے گی۔“
وضاحت:
➊ زکاۃ اسلام کا اہم ترین رکن ہے، قرآن و حدیث میں اس کی فرضیت کو بڑے واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے، اس سے مال پاک ہوتا ہے اور یہ صاحب مال کو بخل کی رذالت اور گناہوں سے پاک کر دیتی ہے۔
➋ شریعت نے جانوروں، سونے چاندی، نقدی، زمین کی پیداوار اور مالِ تجارت سے زکاۃ کا تقاضا کیا ہے۔
➌ صاحب نصاب اگر زکاۃ نہ دے تو اس کے لیے شرعاً سخت ترین وعیدیں ہیں۔
➋ شریعت نے جانوروں، سونے چاندی، نقدی، زمین کی پیداوار اور مالِ تجارت سے زکاۃ کا تقاضا کیا ہے۔
➌ صاحب نصاب اگر زکاۃ نہ دے تو اس کے لیے شرعاً سخت ترین وعیدیں ہیں۔