السنن المأثورة
باب ما جاء في صدقة الفطر— صدقۃ الفطر کا بیان
باب ما جاء في صدقة الفطر باب: صدقۃ الفطر کا بیان
حدیث نمبر: 373
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ لَهُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ وَجَدَهُ يُبَاعُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لا تَشْتَرِهِ وَلا تَقْرَبَنَّهُ " .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عہد رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک گھوڑا صدقہ کیا اور اُسے (بعد میں) برائے فروخت پایا تو اس بات کا ذکر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے مت خریدنا اور اس کے قریب تک نہ جانا۔“
وضاحت:
➊ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قیمتاّ خریدنا چاہتے تھے اس کے باوجود صدقہ صوری طور پر بھی واپس لینے سے روک دیا گیا، ایک تو یہ احتمال ہوتا ہے کہ جسے صدقہ دیا ہو وہ تھوڑی قیمت مانگے گا کیونکہ اس نے مفت دیا تھا، اب اس سے کیا سودا کروں، تو اس حکم شرعی سے حیلہ سازی، یا شبہ والی باتوں کا بھی سد باب کر دیا گیا۔
➋ صدقہ کر کے اس پر نگاہ نہیں رکھنی چاہیے کہ اب دیکھو صدقہ میری مرضی سے استعمال کرتا ہے یا نہیں، صدقہ کر کے آدمی کا اختیار ختم ہو گیا اب جس کو دے دیا اس کی ملکیت ہے اور آپ نے اس پر احسان نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ سے سودا کیا ہے، اس کا بدل اللہ تعالیٰ سے لو، اگر احسان جتلایا تو یہ صدقہ و زکاۃ باعث ثواب بننے کے بجائے باعث عذاب ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴾ [البقرہ: 264]
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کی مثال چکنے پتھر کی سی ہے جس پر مٹی پڑی ہو، پھر اس پر زور کی بارش ہو تو (ساری مٹی بہہ جائے اور) صاف چٹان رہ جائے۔ وہ (ریا کار) جو نیکی کرتے ہیں، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔
➋ صدقہ کر کے اس پر نگاہ نہیں رکھنی چاہیے کہ اب دیکھو صدقہ میری مرضی سے استعمال کرتا ہے یا نہیں، صدقہ کر کے آدمی کا اختیار ختم ہو گیا اب جس کو دے دیا اس کی ملکیت ہے اور آپ نے اس پر احسان نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ سے سودا کیا ہے، اس کا بدل اللہ تعالیٰ سے لو، اگر احسان جتلایا تو یہ صدقہ و زکاۃ باعث ثواب بننے کے بجائے باعث عذاب ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴾ [البقرہ: 264]
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کی مثال چکنے پتھر کی سی ہے جس پر مٹی پڑی ہو، پھر اس پر زور کی بارش ہو تو (ساری مٹی بہہ جائے اور) صاف چٹان رہ جائے۔ وہ (ریا کار) جو نیکی کرتے ہیں، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔