السنن المأثورة
باب ما جاء في صدقة الفطر— صدقۃ الفطر کا بیان
باب ما جاء في صدقة الفطر باب: صدقۃ الفطر کا بیان
حدیث نمبر: 372
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهَ مِنْهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَاعَهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لا تَبْتَعْهُ وَإِنْ أَعْطَاكَ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ وَلا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .نوید مجید طیب
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے جہاد کے لیے گھوڑا مہیا کیا تو جس کے پاس تھا اس نے اسے ضائع کر دیا میں نے ارادہ کیا اس سے خرید لوں میرا خیال تھا (چونکہ گھوڑا کمزور ہو گیا ہے) کہ سستا فروخت کر دے گا تو اس سے متعلق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر ایک درہم کا دے پھر بھی مت خرید و اپنے صدقے کو واپس مت لو، صدقہ دے کر واپس لینے والا اُس کتے کی طرح ہے جو الٹی کر کے چاٹ لیتا ہے۔“