السنن المأثورة
ما جاء في الجمع بين الصلاتين في المطر— بارش کی صورت میں نمازیں جمع کرنے کا بیان
ما جاء في الجمع بين الصلاتين في المطر باب: بارش کی صورت میں نمازیں جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 33
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ : " هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا ؟ " قَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " إِنِّي أَقُولُ : مَا لِيَ أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ " قَالَ : فَانْتَهَى النَّاسُ بِالْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز سے فارغ ہوئے جس میں بآواز بلند آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآت فرمائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ (کچھ) پڑھا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی کہوں قرآن پڑھنے میں مجھے وقت کیوں پیش آ رہی ہے۔“ امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے آپ کی یہ بات سنی تو جہری نمازوں میں قرآت سے رک گئے۔
وضاحت:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک آدمی امام کے پیچھے اونچا اونچا ساتھ ساتھ پڑھ رہا تھا جس کی آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھنے میں دشواری پیش آرہی تھی، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ ایسا کرنے سے منع کر دیا۔
➋ فاتحہ کے بعد والا قرآن مقتدیوں کو خاموشی سے سننا چاہیے۔ جیسا کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآت بھاری ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد پوچھا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم امام کے پیچھے قرآت بھی کرتے رہتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو صرف ام القرآن (سورہ فاتحہ) پڑھا کرو کیونکہ جس نے سورہ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں۔ [سنن ترمذی: 311]
➌ اس واضح حدیث کے بعد مقتدی کے لیے عدم فاتحہ پر استدلال نقلی و عقلی دونوں اعتبار سے درست نہیں۔ کیونکہ قرآت کی دشواری اونچی آواز سے پڑھنے میں ہوتی ہے نہ کہ آہستہ آواز سے جبکہ فاتحہ آہستہ پڑھی جاتی ہے۔ دوسرا اس روایت کے راوی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں: «الراوي ادري بماروي» وہ خود فاتحہ خلف الامام کا فتویٰ دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے جس نماز میں فاتحہ نہیں پڑھی گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ناقص "خداج" قبل از وقت پیدا ہونے والے ناقص مردہ بچے کی مانند ہے پوری نہیں۔ [صحیح مسلم: 395]
➍ حدیث بالا میں جہری نماز میں قرآت بعد از فاتحہ سے منع کیا گیا جبکہ فاتحہ نہ پڑھنے والے ظہر و عصر جو سری نمازیں ہیں ان میں بھی سورہ فاتحہ نہیں پڑھتے۔
➎ قراءت کرنے سے رک گئے یہ امام زہری رحمہ اللہ کا قول ہے جیسا کہ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ، ابن قیم رحمہ اللہ، وغیرہ ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال و دلائل سے ثابت کیا ہے۔
➏ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس عمل سے رکے تھے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا تھا اور وہ فاتحہ کے بعد والی قرآت تھی۔
➋ فاتحہ کے بعد والا قرآن مقتدیوں کو خاموشی سے سننا چاہیے۔ جیسا کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآت بھاری ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد پوچھا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم امام کے پیچھے قرآت بھی کرتے رہتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو صرف ام القرآن (سورہ فاتحہ) پڑھا کرو کیونکہ جس نے سورہ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں۔ [سنن ترمذی: 311]
➌ اس واضح حدیث کے بعد مقتدی کے لیے عدم فاتحہ پر استدلال نقلی و عقلی دونوں اعتبار سے درست نہیں۔ کیونکہ قرآت کی دشواری اونچی آواز سے پڑھنے میں ہوتی ہے نہ کہ آہستہ آواز سے جبکہ فاتحہ آہستہ پڑھی جاتی ہے۔ دوسرا اس روایت کے راوی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں: «الراوي ادري بماروي» وہ خود فاتحہ خلف الامام کا فتویٰ دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے جس نماز میں فاتحہ نہیں پڑھی گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ناقص "خداج" قبل از وقت پیدا ہونے والے ناقص مردہ بچے کی مانند ہے پوری نہیں۔ [صحیح مسلم: 395]
➍ حدیث بالا میں جہری نماز میں قرآت بعد از فاتحہ سے منع کیا گیا جبکہ فاتحہ نہ پڑھنے والے ظہر و عصر جو سری نمازیں ہیں ان میں بھی سورہ فاتحہ نہیں پڑھتے۔
➎ قراءت کرنے سے رک گئے یہ امام زہری رحمہ اللہ کا قول ہے جیسا کہ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ، ابن قیم رحمہ اللہ، وغیرہ ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال و دلائل سے ثابت کیا ہے۔
➏ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس عمل سے رکے تھے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا تھا اور وہ فاتحہ کے بعد والی قرآت تھی۔