حدیث نمبر: 32
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى حَبْلا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ , فَقَالَ : " مَا هَذَا الْحَبْلُ ؟ " فَقَالُوا : لِفُلانَةَ تُصَلِّي , فَإِذَا غُلِبَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ , فَقَالَ : " لا تَفْعَلْ , تُصَلِّي مَا عَقَلَتْ , فَإِذَا غُلِبَتْ فَلْتَنَمْ " .
نوید مجید طیب

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹکی ہوئی دیکھی تو پوچھا: ”یہ رسی کیسی ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ فلاں عورت نے نماز کے لیے لٹکائی ہوئی ہے جب (قیام میں تھک جاتی ہیں) تو اس سے سہارا لیتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو جب تک ہوش وحواس قائم رہیں نماز پڑھو جب نیند کا غلبہ ہو جائے تو جا کر سو جاؤ۔“

وضاحت:
➊ یہ عورت ام المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ہوتی تھیں۔ [صحیح بخاری: 1150]
➋ اس حدیث سے معلوم ہوا عورت نفلی عبادت بھی مسجد میں کر سکتی ہے۔
➌ حدیث میں «ازالة المنكر» کا بھی بیان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبادات کا جس طرح حکم دیتے تھے اسی طرح عبادات میں وقتاً فوقتاً اصلاح بھی فرماتے رہتے تھے، اسی طرح ایک دفعہ مسجد نبوی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے جلدی جلدی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے متعدد بار نئے سرے سے نماز پڑھائی اطمینان و اعتدال سمجھایا۔ [صحیح بخاری: 757]
➍ تبلیغ دین صرف لوگوں کو نمازی بنانا نہیں بلکہ سنت کے مطابق نمازیں پڑھانا، سکھانا بھی داعی کے فرائض میں شامل ہے۔
➎ داعی، معلم اور حاکم کا پہلے وجہ دریافت کرنا بعد از تحقیق مناسب حکم صادر کرنا بھی حدیث بالا سے معلوم ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / ما جاء في الجمع بين الصلاتين في المطر / حدیث: 32
تخریج حدیث صحیح بخاری، التهجد، باب ما يكره من التشديد في العبادة، رقم: 1150، صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة باب امر من نعس في صلاته الخ، رقم: 784