حدیث نمبر: 34
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو قتادہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعتیں پڑھنے سے پہلے نہ بیٹھے۔“

وضاحت:
➊ اس حدیث میں تحیۃ المسجد کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ مساجد عبادت الہی کے لیے بنائی جاتی ہیں لہذا ان میں داخل ہونے والا نماز پڑھ کر بیٹھے۔
➋ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اس وقت مسجد میں آئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مجلس میں تشریف فرما تھے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی آکر بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھی؟ نہیں آپ لوگوں کو بیٹھے دیکھا تو میں بھی بیٹھ گیا تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم ارشاد فرمایا تھا۔ [صحیح مسلم: 714]
➌ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے صحیح میں باب قائم کیا ہے۔ «ان تحية المسجد لا تفوت بالجلوس» کہ مسجد میں آکر بیٹھ جانے سے تحیۃ المسجد کا حکم ساقط نہ ہو گا، بلکہ اٹھ کر یاد آنے پر تحیۃ المسجد پڑھنا ہو گی، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے دوران ایک آدمی مسجد میں آکر بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: «قم فصل ركعتين» کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعات ادا کرو۔ [صحیح مسلم: 875]
➍ اگر اوقات ممنوعہ میں مسجد میں داخل ہوا تو بعض محدثین بشمول امام شافعی رحمہ اللہ یہی رائے رکھتے ہیں کہ یہ سببی نماز ہے تب بھی دو رکعت پڑھے جبکہ ممنوعہ اوقات میں صرف عام نوافل جو بغیر سبب کے ہوں وہ منع ہیں۔ میں نے مسجد نبوی میں شیخ امین اللہ بشاوری رحمہ اللہ سے تحیۃ المسجد کے بارے میں سوال کیا کہ ممنوعہ اوقات میں پڑھنے چاہیے یا کہ نہیں انہوں نے کہا: پڑھنے چاہیے میں نے اوقات نہی والی حدیث کا حوالہ دیا تو فرمانے لگے یہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ ممانعت منع ہونے میں محفوظ نہیں بہت سی اشیاء اس سے مستثنی ہو گئی ہیں جیسے نماز جنازہ، نماز کی قضا، تحیۃ المسجد یہ نماز عصر کے بعد ادا ہو سکتی ہیں لہذا تحیۃ المسجد بھی منع سے مستثنی ہو گی۔
➎ کوئی بھی فرض، سنت مسجد میں داخلے کے وقت پڑھ لے تو تحیۃ ادا ہو جائے گا کیونکہ عموماً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماعت کے وقت تشریف لاتے اور آکر جماعت کرواتے علیحدہ سے تحیۃ المسجد کا اہتمام نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / ما جاء في الجمع بين الصلاتين في المطر / حدیث: 34
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصلاة، باب اذا دخل المسجد فليركع ركعتين، رقم: 444، صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب تحية المسجد بركعتين، رقم: 714