السنن المأثورة
باب ما جاء في صيام عاشوراء— عاشورا کے روزوں کا بیان
باب ما جاء في صيام عاشوراء باب: عاشورا کے روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 329
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ ؟ ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يَكْتُبِ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ وَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ " .نوید مجید طیب
حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو سنا عاشوراء کا دن تھا حج کا سال تھا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ منبر پر فرما رہے تھے اے اہل مدینہ ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ (بناوٹی بال لگانے سے تمہیں منع کیوں نہیں کرتے) میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”آج کا دن عاشوراء کا دن ہے اس کا روزہ اللہ نے فرض نہیں کیا لیکن میں نے روزہ رکھا ہے جو چاہیے روزہ رکھ لے جو چاہیے افطار کر لے۔“