السنن المأثورة
باب ما جاء في صيام عاشوراء— عاشورا کے روزوں کا بیان
باب ما جاء في صيام عاشوراء باب: عاشورا کے روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 330
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " صُومُوا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ ، وَلا تَتَشَبَّهُوا بِيَهُودَ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ محرم کی نو اور دس تاریخ کا روزہ رکھو یہود سے مشابہت نہ کرو۔
وضاحت:
➊ عاشورہ سے مراد دس محرم الحرام ہے ابتدائے اسلام میں عاشورہ کا روزہ فرض تھا، جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تو اس کی فرضیت ختم کر دی گئی اب یہ روزہ مسنون ہے۔
➋ عاشورہ کا روزہ نفلی روزوں میں سے ایک انتہائی فضیلت والا روزہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «احتسب على الله ان يكفر السنة التى قبله» مجھے اللہ سے امید ہے اس کے ذریعے گزشتہ سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ [صحیح مسلم: 1166]
➌ اہل جاہلیت اور اہل کتاب بھی اس دن روزہ رکھتے تھے اسلام نے جاہلیت کی اچھی باتوں کو برقرار رکھا۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا اس دن موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون سے نجات دی تھی اس لیے یہودی شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نحن اولى بموسيٰ منكم» ہم تمہاری نسبت موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزہ کا حکم دیا۔ [صحیح بخاری: 3943]
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس کا روزہ رکھا اور نو کا رکھنے کا ارادہ ظاہر فرمایا لیکن آئندہ سال اس دن کے آنے سے قبل ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔
➏ نو اور دس محرم دو دنوں کے روزہ سے متعلق ترجمان القرآن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ترجمانی قابل فہم اور راجح ہے اور یہی فہم سلف کا بھی تقاضا ہے۔
➐ بعض حضرات نے فہم سلف میں اتنا غلو کیا جو کسی طرح تقلید سے کم نہیں، حدیث ایک طرف ہوتی ہے اور عملِ راوی جو بسا اوقات حدیث کے مغائر اس طرح ہوتا ہے کہ دونوں میں تطبیق ممکن ہی نہیں ہوتی، فہم سلف کے نام پر حدیث پر عمل چھوڑ دیتے ہیں، یہ سراسر تقلید ہے اور اسی طرح حرام ہے جس طرح ایک متعصب مقلد کا تقلید کرنا حرام ہے۔
➑ فہم سلف کا معنی صرف یہ ہے کہ سلف میں سے کوئی آدمی آیت یا حدیث بیان کرے اور کہے بھائی اس آیت یا حدیث کا مفہوم، معنی اور مقصود یہ ہے یعنی سلف کی تفسیر ہی فہم سلف ہے۔ اور اگر سلف کا ذاتی عمل ہے یا ذاتی اجتہاد ہے اور اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ میرا عمل فلاں حدیث سے مستنبط ہے تو ایسی صورت میں حدیث کو رد کر دینا کہ راوی اپنی روایت کو زیادہ جانتا ہے، یہ موقف رکھنا اور اس کو فہم سلف کہنا غلط ہے۔ اسی تشدد کے باعث ایک فرقہ ایسا بھی ردِ عمل کے طور پر معرض وجود میں آ گیا ہے جس نے فہم سلف کا انکار کر دیا کہ ہم اپنی عقل سے قرآن و حدیث سمجھیں گے۔
➒ ہمارے نزدیک فہم سلف وہی ہے جو کسی نص کی تشریح ہے، ذاتی عمل فہم نہیں کیونکہ انسان میں بھول، سستی اور بے عملی ہر قسم کا احتمال موجود ہے۔
➓ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو تعلیماتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت و عقیدت تھی، انہوں نے مدینہ میں سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت دیکھی تو فوراً اہل مدینہ کو تنبیہ فرمائی۔
⓫ اتباعِ نبوی میں حکمران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اہم امور کی نشاندہی کے موقع پر منبر کا استعمال کرتے رہے، افسوس آج مسلمانوں کے حکمران منبر و محراب سے کوسوں دور چلے گئے جس کی وجہ سے وہ ایسے مسائل میں الجھے کہ بقول: نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
⓬ جس طرح مردوں کے لیے یہود کی مشابہت ممنوع ہے اسی طرح عورتوں کے لیے بھی یہود کی مشابہت ناجائز ہے۔
⓭ عورتوں کا نفلی بال، وگ وغیرہ کا استعمال کرنا جائز نہیں البتہ بالوں کی پیوند کاری درست ہے کیونکہ وہ اصلی بال ہوتے ہیں۔
⓮ حاکمِ وقت کا فرض ہے کہ علماء کو اشاعتِ دین کا فریضہ انجام دینے کی ترغیب دے اور ان کی سستی پر ان کو تنبیہ کرے۔
⓯ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے روزے کا خاص اہتمام فرمایا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے بارے میں امت کو اختیار دیا ہے۔
➋ عاشورہ کا روزہ نفلی روزوں میں سے ایک انتہائی فضیلت والا روزہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «احتسب على الله ان يكفر السنة التى قبله» مجھے اللہ سے امید ہے اس کے ذریعے گزشتہ سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ [صحیح مسلم: 1166]
➌ اہل جاہلیت اور اہل کتاب بھی اس دن روزہ رکھتے تھے اسلام نے جاہلیت کی اچھی باتوں کو برقرار رکھا۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا اس دن موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون سے نجات دی تھی اس لیے یہودی شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نحن اولى بموسيٰ منكم» ہم تمہاری نسبت موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزہ کا حکم دیا۔ [صحیح بخاری: 3943]
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس کا روزہ رکھا اور نو کا رکھنے کا ارادہ ظاہر فرمایا لیکن آئندہ سال اس دن کے آنے سے قبل ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔
➏ نو اور دس محرم دو دنوں کے روزہ سے متعلق ترجمان القرآن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ترجمانی قابل فہم اور راجح ہے اور یہی فہم سلف کا بھی تقاضا ہے۔
➐ بعض حضرات نے فہم سلف میں اتنا غلو کیا جو کسی طرح تقلید سے کم نہیں، حدیث ایک طرف ہوتی ہے اور عملِ راوی جو بسا اوقات حدیث کے مغائر اس طرح ہوتا ہے کہ دونوں میں تطبیق ممکن ہی نہیں ہوتی، فہم سلف کے نام پر حدیث پر عمل چھوڑ دیتے ہیں، یہ سراسر تقلید ہے اور اسی طرح حرام ہے جس طرح ایک متعصب مقلد کا تقلید کرنا حرام ہے۔
➑ فہم سلف کا معنی صرف یہ ہے کہ سلف میں سے کوئی آدمی آیت یا حدیث بیان کرے اور کہے بھائی اس آیت یا حدیث کا مفہوم، معنی اور مقصود یہ ہے یعنی سلف کی تفسیر ہی فہم سلف ہے۔ اور اگر سلف کا ذاتی عمل ہے یا ذاتی اجتہاد ہے اور اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ میرا عمل فلاں حدیث سے مستنبط ہے تو ایسی صورت میں حدیث کو رد کر دینا کہ راوی اپنی روایت کو زیادہ جانتا ہے، یہ موقف رکھنا اور اس کو فہم سلف کہنا غلط ہے۔ اسی تشدد کے باعث ایک فرقہ ایسا بھی ردِ عمل کے طور پر معرض وجود میں آ گیا ہے جس نے فہم سلف کا انکار کر دیا کہ ہم اپنی عقل سے قرآن و حدیث سمجھیں گے۔
➒ ہمارے نزدیک فہم سلف وہی ہے جو کسی نص کی تشریح ہے، ذاتی عمل فہم نہیں کیونکہ انسان میں بھول، سستی اور بے عملی ہر قسم کا احتمال موجود ہے۔
➓ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو تعلیماتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت و عقیدت تھی، انہوں نے مدینہ میں سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت دیکھی تو فوراً اہل مدینہ کو تنبیہ فرمائی۔
⓫ اتباعِ نبوی میں حکمران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اہم امور کی نشاندہی کے موقع پر منبر کا استعمال کرتے رہے، افسوس آج مسلمانوں کے حکمران منبر و محراب سے کوسوں دور چلے گئے جس کی وجہ سے وہ ایسے مسائل میں الجھے کہ بقول: نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
⓬ جس طرح مردوں کے لیے یہود کی مشابہت ممنوع ہے اسی طرح عورتوں کے لیے بھی یہود کی مشابہت ناجائز ہے۔
⓭ عورتوں کا نفلی بال، وگ وغیرہ کا استعمال کرنا جائز نہیں البتہ بالوں کی پیوند کاری درست ہے کیونکہ وہ اصلی بال ہوتے ہیں۔
⓮ حاکمِ وقت کا فرض ہے کہ علماء کو اشاعتِ دین کا فریضہ انجام دینے کی ترغیب دے اور ان کی سستی پر ان کو تنبیہ کرے۔
⓯ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے روزے کا خاص اہتمام فرمایا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے بارے میں امت کو اختیار دیا ہے۔