السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة في السفر— سفر میں نماز کا بیان
باب ما جاء في الصلاة في السفر باب: سفر میں نماز کا بیان
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ , يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ , وَلا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ , حَتَّى دَنَا , فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلامِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ " , فَقَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : " لا , إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ " , قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ ؟ قَالَ : " لا , إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " , قَالَ : وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّدَقَةَ , قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : " لا , إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " , فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ لا أَزِيدُ عَلَى هَذَا , وَلا أَنْقُصُ مِنْهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ " .طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اہل نجد کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، آواز کی بھنبھناہٹ سنائی پڑ رہی تھی مگر سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کہہ رہا ہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا تو معلوم ہوا کہ اسلام کے بارے پوچھ رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلام دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا ہے۔اس آدمی نے دریافت کیا: کیا ان پانچ کے علاوہ بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں الا کہ تو نفلی پڑھنا چاہے۔ “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اور رمضان کے روزے رکھنا بھی فرض ہیں۔“ اس آدمی نے کہا : کیا اس کے علاوہ بھی (روزے ہیں) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں“ مگر یہ کہ تو نفلی رکھنا چاہیے (تو تیری مرضی۔ راوی لکھتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ (زکاۃ) کا بھی بتایا، وہ آدمی کہنے لگا اس کے علاوہ تو کوئی زکاۃ مجھ پر نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں الا کہ نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہیے۔ راوی کہتے ہیں وہ شخص واپس پلٹا اور کہ رہا تھا اللہ کی قسم ! میں نہ اس فریضہ میں اضافہ کروں گا نہ کمی کروں گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا تو کامیاب ہو گیا۔“
➋ معلوم ہوا یہ فرضیت حج 9ھ سے قبل کا واقعہ ہے۔
➌ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فلاح کا دارومدار فرائض کی پابندی پر ہے جبکہ سنن و نوافل فرائض کا تکملہ ہیں روز قیامت اگر فرائض میں کمی رہ گئی تو سنن و نوافل سے پوری کی جائے گی۔
➍ دین میں اپنی طرف سے نہ اضافہ کیا جا سکتا ہے کہ پانچ نمازوں کی بجائے چھ فرض کر لی جائیں اور نہ کمی کی جاسکتی ہے کہ تیس روزوں کی جگہ پندرہ فرض سمجھ لیے جائیں۔
➎ اخروی نجات کے لیے محض شہادتین کی ادائیگی ناکافی ہے۔
➏ نوافل کی ادائیگی کا شریعت نے مسلمان کو مکلف نہیں بنایا بلکہ اس کی مرضی و منشا پر موقوف کر دیا۔ البتہ نوافل کی ادائیگی آخرت میں بلندی درجات کا باعث ہے۔
➐ اس حدیث سے دعوت دین کا بہترین انداز اور اسلوب بھی اخذ ہوتا ہے کہ نو مسلم کو پہلے صرف فرائض سے آگاہ فرمایا جائے تاکہ بوجھ محسوس نہ کرے جب دین کی مٹھاس دل میں بیٹھ گئی تو نوافل، سنن پر خود بخود عمل پیرا ہو جائے گا۔